اشتعال انگیز تقریر:فاروق ستار، عامر خان نے جواب جمع کرادیے

ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار اور سینئر ڈپٹی کنوینر عامر خان نے اشتعال انگیز تقریر کیس میں پولیس کے سوال نامے کا جواب داخل کرادیا۔
دونوں رہنماؤں نے 22 اگست کی تقریر کے بعد 17 اگست کی ہڑتال سے بھی لاتعلقی ظاہر کردی ۔
22 اگست کو بانی ایم کیو ایم کی اشتعال انگیز تقریر کے کیس میں پولیس نے 9 سوالات پر مشتمل سوال نامہ دیا تھا جس کا جواب فاروق ستار اور عامر خان نے عدالت میں جمع کرادیا ہے۔
دونوں رہنماؤں نے 17 اگست 2016ء کی ہڑتال سے لاتعلقی ظاہر کی۔
فاروق ستار نے جواب دیا کہ وہ بیرون ملک سے واپس آئے تو لندن رابطہ کمیٹی نے بھوک ہڑتال کی ہدایت کی۔
عامر خان کے مطابق وہ ہڑتال کے فیصلے میں شریک نہیں تھے۔
ہڑتالی کیمپ میں موجود رہنماؤں سے متعلق سوال پر فاروق ستار نے مکمل لاعلمی ظاہر کی جبکہ عامر خان نے کسی رہنما کا نام بتانے سے گریز کیا۔
تقریر کے بعد اشتعال انگیزی روکنے سے متعلق سوال پر فاروق ستار کا جواب ہے کہ وہ نفرت انگیزتقریرکے بعد بانی ایم کیو ایم سے لاتعلقی کیلئے پریس کلب آئے تھے،جہاں سے رینجرز اہلکار انہیں اٹھا کر لے گئے جس کے بعد انہوں نے 23 اگست کی پریس کانفرنس میں بانی سے علیحدگی کا اعلان کیا۔
عامرخان کے مطابق بانی کی تقریر ختم ہونے کے بعد توڑ پھوڑ کا کوئی پروگرام نہیں تھا، ہنگامہ آرائی کے دوران رینجرز حکام نے فون کرکے انہیں بلوالیا، جس کے بعدرات ایک بجے تک سوال ہوئے، جن میں بانی سے مکمل لاتعلقی کا اظہار کی۔
22 اگست کے بعد بانی ایم کیو ایم سے ملاقاتوں کے سوال پر دونوں رہنماؤں نے کسی بھی ملاقات اور بات چیت سے انکار کیا، جلاؤ گھیراؤ اور ایک شخص کی ہلاکت پر تاثرات سے متعلق سوال پر فاروق ستار نے کہا کہ وہ بے اختیار ہاتھ ماتھے پر رکھ کر تقریر ختم ہونے کی دعا کرتے رہے۔
عامر خان نے 22 اگست کو افسوس ناک دن قرار دیتے ہوئے کہا کہ کوئی محب وطن یہ عمل برداشت نہیں کرسکتا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com