سینیٹ کمیٹی نے فاٹا میں راہداری ٹیکس نافذ کرنے پر حکومت سے وضاحت طلب کرلی

اسلام آباد: وزیر مملکت سیفران غالب خان نے ایوان بالا کی قائمہ کمیٹی سیفران میں انکشاف کیا ہے کہ فاٹا سیکریٹریٹ سیس کی مد میں جو ٹیکس اکٹھاکر رہا ہے اس کا کوئی آڈٹ نہیں ہو رہا، جب آڈٹ والوں کی بھوک و پیاس بڑھ جائے تو وہ جیبیں بھرنے کے لیے آڈٹ کرنے پہنچ جاتے ہیں، فاٹا میں معدنیات کے شعبے میں اندھیر نگری چل رہی ہے جب کہ کمیٹی نے حکومت سے وضاحت طلب کر لی۔

قائمہ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین سینیٹر ہلال الرحمن کی صدارت میں ہوا، مینجنگ ڈائریکٹر پیپکو نے کمیٹی کو ٹیسکو میں گریڈ 3 سے گریڈ 15کی اسامیوں کے حوالے سے آگاہ کیا، چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ وزارت سیفران نے معاملے پر اچھی انکوائری رپورٹ پیش کی ہے، مستقبل میں بھرتیوں میں فاٹا کے امیدواروں کوکوٹا میں ترجیح دی جائے اور غلطیوں کا ازالہ کیا جائے۔

کمیٹی نے واپڈا کی ڈسٹری بیوشن کمپنیوں میں فاٹا کے کوٹا کے تحت بھرتیوں کی تفصیلات طلب کر لیں، فاٹا سیکریٹریٹ کے حکام نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ فاٹا میں سیس اور راہداری ٹیکس کمیٹی کے فیصلے کے تحت بتدریج ختم کیا جا رہا ہے، چیئرمین نے کہاکہ ایس آراوکے تحت گورنرکو کیسے اختیار حاصل ہے کہ وہ سیس یا راہداری ٹیکس لگائے جبکہ فاٹا میں ٹیکس ایکٹ نافذ نہیں ہے۔
سینیٹر تاج محمد آفریدی نے کہا کہ گزشتہ50 سال سے یہ غیرقانونی ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے جو غیر آئینی ہے، اس کو فوری ختم کیا جائے، چیئرمین کمیٹی نے معدنیات کی تلاش کے معاملے پر حکام کی بریفنگ پر عدم اطمینان کا اظہارکرتے ہوئے آئندہ اجلاس میں مزید تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت کر دی۔

کمیٹی نے رائلٹی کے تحت وفاقی حکومت کو جمع کرائی جانے والی رقم سے فاٹا میں ترقیاتی کام کی تفصیلات طلب کر لیں جب کہ چیئرمین این ایچ اے جواد رفیق ملک نے بتایاکہ لیاری ایکسپریس کا افتتاح 5جنوری کو متوقع ہے۔

قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی مواصلات کا اجلاس چیئرمین کمیٹی مزمل قریشی کی زیرصدارت ہوا، اجلاس میں وفاقی وزیر مواصلات حافظ عبدالکریم نے کہا کہ ہزارہ موٹروے کے برہان سے شاہ مقصود انٹرچینج سیکشن کا افتتاح آج (بدھ 27 دسمبرکو) کیا جا رہا ہے، آئندہ ماہ لیاری ایکسپر یس وے کا بھی افتتاح کر دیا جائے گا، چیئرمین کمیٹی کی جانب سے کہا گیاکہ لیاری ایکسپریس وے کا افتتاح سروس روڈ کی تعمیر کے بغیرکیاجا رہا ہے، اس طرح یہ منصوبہ 100 فیصد مکمل نہیں ہو گا۔

نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ کراچی ناردرن بائی پاس کو 2 سے 6 رویہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، سینیٹ کمیٹی مواصلات کا اجلاس چیئرمین داؤد اچکزئی کی سربراہی میں ہوا، چیئرمین این ایچ اے جواد رفیق ملک نے بتایا کہ سی پیک سے مغربی روٹ کی کوئی شاہراہ نہیں نکالی گئی تاہم چین کی جانب سے ان منصوبوں کے میکنزم کو ریوائزکیا جا رہا ہے۔

کمیٹی کی جانب سے پی ایس ڈی پی منصوبوں کے تحت بلوچستان کے شاہراہوں کے منصوبوں پرکام نہ ہونے پر بھی برہمی کا اظہار کر تے ہوئے آئندہ اجلاس میں این ایچ اے سے ان منصوبوں پر تفصیلات مانگ لی ہیں، چیئرمین نے کہاکہ اقتصادی راہداری کے مغربی حصے کے ایک کلو میٹر پر بھی ترقیاتی کام نہیں کیا گیا۔ زمین کے حصول کیلیے فنڈز جاری نہیں ہوئے، اگلے اجلاس میں پلاننگ منسٹری کے سی پیک سیکریٹریٹ حکام طلبکر لیے گئے۔

چیئر مین کمیٹی نے ٹول پلازوں کے جون 2017 سے ٹھیکوں کے معاہدہ مدت ختم ہونے کے بعد نئے ٹینڈرزکے بارے میں مکمل تفصیل اگلے اجلاس میں طلب کر لی جب کہ کمیٹی نے صوبہ بلوچستان میں پروجیکٹس پرکام کرنے والے ٹرینی انجینئرزکی لسٹ فراہمی کی ہدایت دے دی، علاوہ ازیں موٹروے پولیس میں صوبہ بلوچستان کی بھرتیوں پرکوٹا ختم کرکے لمبائی کی بنیاد پرمقامی لوگوں کو روزگار فراہم کرنے کیلیے سفارش کی گئی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com