وزیر اعلیٰ بلوچستان ان یا آئوٹ؟

وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری ایوان میں اِن رہیں گے یا آئوٹ ہوگے؟ فیصلہ آج ہوگا، وزیراعلیٰ کے حامی اور مخالفین اپنی اپنی کامیابی کیلئے امید لگائے بیٹھ گئے۔

وفاقی حکومت کے حکومتی واپوزیشن اراکین سے رابطے تا ہم اپوزیشن اراکین نے وزیراعظم سے ملاقات کرنے سے صاف انکار کر دیا۔

وفاقی حکومت نے عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر انجینئر زمرک خان اچکزئی، سابق اسپیکر بلوچستان اسمبلی جان محمد جمالی، سابق ڈپٹی اسپیکر میر عبدالقدوس بزنجو اور سابق وزیرداخلہ میر سرفراز بگٹی سمیت دیگر ناراض اراکین سے رابطے کئے تا ہم اراکین نے ملاقات کرنے سے صاف انکار کر دیا۔

وزیراعظم، گورنر و وزیرعلیٰ بلوچستان اور چیف سیکرٹری نے اپوزیشن لیڈر مولانا عبدالواسع سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور کوئٹہ میں وزیراعظم سے تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے ملاقات کرنے کی درخواست کی تاہم اپوزیشن لیڈر مولانا عبدالواسع نے وزیراعظم، گورنر اور وزیراعلیٰ سے ملاقات کرنے سے معذرت کرلی اور کہا کہ ہم کسی بھی صورت حکومتی عہدیداروں سے ملا قا ت نہیں کرینگے ہم جہاں ہے وہی ٹھیک ہے۔

وزیراعلی کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹ دینے کیلئے اپوزیشن ارکان کی تعداد 40ہوگئی ہے۔

گزشتہ روز وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ایک روزہ دورے پر کوئٹہ پہنچے تو وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری اور صوبائی وزراء نے کوئٹہ ائیر پورٹ پر استقبال کیا۔

سابق اسپیکر جان جمالی، سابق ڈپٹی اسپیکر میر عبدالقدوس بزنجو، عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر انجینئر زمرک خان اچکزئی، سابق وزیرداخلہ میر سرفراز بگٹی ، طاہر محمود ، مفتی گلاب کاکڑ، مولوی معاذ اللہ، عبدالماجد ابڑو سمیت دیگر اراکین کے ہمراہ بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن چیمبر میں مشترکہ پریس کانفرنس کی۔

اُن کا کہنا تھا کہ بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرمولانا عبدالواسع ، سابق وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی اور سابق ڈپٹی اسپیکر میر عبدالقدس بزنجو کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے مسئلے پر وزیراعظم اور وفاقی حکومت سے کوئی بھی ملاقات نہیں کرینگے۔ مولانا فضل الرحمان، اسفند یار ولی اور پیپلز پارٹی نے عمران خان کے دھرنے کے بعد حکومت بچانے کی کوشش کی مگر آج وہی وفاقی حکومت ہمارے قائدین کے خلاف سازشوں کا حصہ بن رہے ہیں جس کی ہم کسی بھی صورت اجازت نہیں دینگے، وزیراعلیٰ بلوچستان کے خلاف تحریک عدم اعتماد ایک آئینی اور جمہوری حق ہے اور اپوزیشن وحکومتی اراکین نے آئینی اور جمہوری حق استعمال کر تے ہوئے وزیراعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتما جمع کی اور آج بلوچستان اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پیش کی جائے گی قوم پرستوں نے وزیراعلیٰ کو اس حالت پر پہنچایا کہ آج اپوزیشن کے ساتھ ساتھ حکومتی اراکین بھی ان کے خلاف میدان عمل میں ہے۔

دوسری جانب ترجمان وزیر اعلیٰ بلوچستان کا کہنا ہے کہ 40 اراکین کی حمایت کا دعویٰ کرنے والے عشائیے میں 20 ارکان بھی اکٹھے نہیں کر سکے۔

ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ʼوزیراعلیٰ ثناء اللہ زہری کہتے ہیں کہ عدم اعتماد کی تحریک کا مقابلہ کروں گا اور ایوان میں اپنی اکثریت ثابت کروں گا۔

سابق وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ موجودہ وزیراعلیٰ کہوں یا سابقہ وزیراعلیٰ کہوں اور انہوں نے زیادہ تر عرصہ صوبے سے باہر گزارا اور صوبے کے معاملات پر کوئی اہمیت نہیں دی ہمارے پاس 40 سے زائد اکثریت ہے۔

سابق ڈ پٹی اسپیکر میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ 2 سال سے ڈپٹی اسپیکر کا عہدہ نہیں تھا جو کارروائی ہوئی وہ غیر آئینی ہے اپوزیشن تو پہلے ہی حکومت پر عدم اعتماد کر چکی ہے 25 دسمبر کو سابق وزیرداخلہ نے وزیراعلیٰ بلوچستان کو آگاہ کیا تھا کہ اب آپ باہر کا دورہ نہ کریں کچھ ہونے والا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پشتونخواملی عوامی پارٹی جو جمہوریت کے دعو ید ا ر بنی ہوئی وہ پہلے اپنی پارٹی کے اندر کی جمہوریت پیدا کریں اور دو ضمنی انتخابات اپنے انتخابی نشان کی بجائے کسی اور نشان سے لڑی پشتونخوامیپ نے خود جمہوریت کی پاسداری نہیں کی پارٹی میں جمہوریت لائے پر بات کریں۔

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com