کامن ویلتھ گیمز میں شرکت کے بعد قومی ریسلنگ ٹیم واپس وطن پہنچ گئی

کامن ویلتھ گیمز میں شرکت کے بعد قومی ریسلنگ ٹیم واپس پہنچی تو لوگوں کی جانب سے ایئرپورٹ پر کھلاڑیوں کاپرجوش استقبال کیا گیا۔

ایئرپورٹ پر کھلاڑیوں کے استقبال کیلئے پورا شہر ہی امد آیا اورلوگوں نے اپنے ہیرو پر پتیاں نچھاور کیں۔ علامہ انٹڑنیشنل ایئرپورٹ پر میڈیا سے مختصر گفت گو میں انعام بٹ کا کہنا تھا کہ وہ “کامیابی پر اللہ کے شکر گزار ہیں، ان کی جیت کا کریڈٹ پاکستان اسپورٹس بورڈ کو جاتا ہے”۔

انعام بٹ نے کہا کہ “میں نے اپنی مدد آپ اور ریسلنگ فیڈریشن کی مدد سے ٹریننگ کی اور گولڈ میڈل جیتنے میں کامیاب ہوا”، میں نے جانے سے 3 ماہ پہلے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ مجھے ٹریننگ کے لیے 10 لاکھ روپے دیئے جائیں، اگر میں میڈل نہیں لا سکا تو میں 20 لاکھ روپے واپس کردوں گا لیکن میرا مطالبہ تسلیم نہیں کیا گیا”۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے حکومت اور دیگر حکام سے گلہ کرتے ہوئے کہا کہ “جس طرح بھارت کے ریسلرز کو 6 ماہ کی ٹریننگ دی جاتی ہے، اگر اسی طرح ہماری بھی ٹریننگ ہوتی تو پاکسان کے میڈلز کی تعداد بھی زیادہ ہوتی”۔

انہوں نے کہا کہ “ریسلنگ اور ویٹ لفٹنگ پاکستان میں سب سے زیادہ مشہور کھیل ہیں، اگر حکومت سپورٹ کرے اور بجٹ زیادہ کیا جائے تو پاکستان اولپمک میں بھی گولڈ میڈل جیت سکتا ہے”

واضح رہے کہ کامن ویلتھ گیمز میں ریسلنگ کے مقابلوں میں پاکستان نے مجموعی طور پر تین تمغے جیتے، جن میں ایک گولڈ اور دو کانسی کے تمغے شامل تھے۔ گجرانوالہ کے انعام بٹ پہلوان نے 86 کلوگرام کیٹیگری میں پاکستان کے لیے سونے کا واحد میڈل جیتا، جب کہ پاکستان کے طیب رضا اور محمد بلال نے کانسی کے دو تمغے حاصل کیے۔

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com