ماورائے آئین کچھ بھی کرنے کے لیے تیار نہیں۔ چیف جسٹس

لاہور میں ایوان اقبال میں خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے کہا کہ ماورائے آئین کچھ بھی کرنے کے لیے تیار نہیں، عوام کے حقوق کے لیے لڑیں گے، جس دن لگا قوم ساتھ نہیں رہی، ہم پیچھے ہٹ جائیں گے، قائد اعظم کے ملک میں جمہوریت رہے گی، اینکرز کہتے ہیں مار شل لا، مارشل لا، کسے لگانا ہے مارشل لاء، جس دن مارشل لاء لگا اس دن عہدے چھوڑ دیں گے، جوڈیشل مارشل لاء کا آئین میں کوئی وجود نہیں، یہ کسی کے دل کی خواہش یا اختراع ہوسکتی ہے، ہمارے ذہن میں نہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کون لگائے گا مارشل لاء کس میں ہمت ہے؟، کوئی بھی فیصلہ کریں تو جوڈیشل مارشل لاء کا شور اٹھتا ہے، جوڈیشل مارشل لاء کی باتیں کرنیوالے اپنا ذہن صاف رکھیں، سپریم کورٹ کے17 ججز جوڈیشل مارشل لاء نہیں لگنے دیں گے، میری نظر میں سب سے اہم چیز تعلیم ہے، آج پنجاب یونیورسٹی کی 80 کنال زمین حکومت کو دینے کا نوٹس لیا ہے، اراضی گرڈ اسٹیشن کیلیے دی گئی ہے، لیکن تعلیمی ادارے کی زمین حکومت کو کیوں دی گئی؟، تعلیم سے متعلق کسی چیز پر سمجھوتا نہیں کروں گا۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ بنیادی حقوق کی فراہمی کی ذمہ داری ریاست کی ہے، میں نے بنیادی حقوق کی فراہمی کیلیے کام کیا تو کیا غلط کیا، جس ووٹ کی عزت کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو اس کی قدر اور عظمت لوگوں کی خدمت میں ہے، ووٹ کی قدر اور عزت یہ ہے کہ وہ بنیادی حق عوام کو دیں جو آئین نے دیے ہیں، قوم کی خدمت کریں، ہم عام کیسز کو سن رہے ہیں مگر الزام ہے کہ ہم عام کیسز ڈیل نہیں کررہے،اگر اپنی اپنی جگہ کام ٹھیک ہوتو عدالتوں پر بوجھ نہیں آئے گا، چار دفعہ دوستوں سے کہا تنخواہ چھوڑنے کو تیار ہوں۔

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com