سانحہ حیدرآباد کو 31 سال گزر گئے مگر قاتل آج بھی آزاد ہیں۔ خالد مقبول صدیقی

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے سانحہ حیدرآباد 30 ستمبر 1988ء کے شہدا کی 31 ویں برسی کے موقع پر کہا ہے کہ اس دن 250 کارکنان اور ہمدرد کو قتل کردیا گیا لیکن قاتل آج بھی آزاد ہیں یہ سانحہ ہرگز نہیں بھول سکتے۔

ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے شہدا کے خاندانوں کو سلام تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ حیدر آباد، لطیف آباد، ایم کیو ایم کے دفاتر، ہیر آباد، قلعہ چوک، گرونگر چوک، تلسی داس روڈ، گاڑی کھاتہ اور کالی موری سمیت مختلف علاقوں میں ہونے والا قتل عام آج بھی ہماری نظروں کے سامنے ہے۔

رہنما ایم کیو ایم نے کہا کہ آج بھی قاتل آزاد ہیں، شہیدوں کے لواحقین انصاف کے منتظر ہیں، ہم بھول نہیں سکتے کہ 30 ستمبر 1988ء کو شام 7 بجے سے رات بھر شہیدوں کے جنازے اور زخمی اسپتال پہنچتے رہے، اس روز مہاجروں پر شب خون مارنے والے 100 دہشت گردوں کو سرکاری سرپرستی حاصل تھی۔

ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ہماری جدوجہد میں ساتھیوں اور قوم کے جوانوں بزرگوں ماؤں بہنوں کا خون شامل ہے جس سے ہم کبھی بھی غداری نہیں کرسکتے، 1986ء سے آج تک ہونے والے تمام سانحات، ماورائے عدالت قتل پر انصاف چاہتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ ہمیں بھی انصاف دیا جائے گا اور سازشی قاتل چہرے بے نقاب ہوں گے۔

متحدہ رہنما نے مزید کہا کہ ہم 31 اکتوبر 1986ء کو مارکیٹ چوک حیدر آباد، مئی 1990ء کے قتل عام کو بھی نہیں بھولے ہمارے شہید مشعل راہ ہیں۔