مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس: نئی مردم شماری فوری شروع کرنے کافیصلہ

وزیراعظم عمران خان کے زیر صدارت ہونے والے مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں فوری طور پر مردم شماری کرانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔

مشترکہ مفادات کونسل اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل نے نئی مردم شماری فوری شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نئی مردم شماری کیلئے بنیادی فریم ورک 6 سے 8 ہفتے میں طے کرلیا جائے گا۔ انتخابات سے پہلے نئی حلقہ بندیاں بھی ہوجائیں گی۔ نئی مردم شماری کا عمل 2023 سے پہلے مکمل ہوگا۔

وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ اجلاس میں اکثریتی رائے سے مردم شماری کے نتائج جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ آئندہ مردم شماری میں مزید شفافیت لانے کیلئے جدید ٹیکنالوجی استعمال کریں گے۔

اسد عمر نے کہا کہ نومبر2017 میں مردم شماری ہوئی تھی۔ 2017کی مردم شماری پر اعتراضات اٹھائے گئے۔ مردم شماری پر صوبوں نے اعتراضات اٹھائے تھے۔ مردم شماری کی بنیاد پر انتخابات کاعمل مکمل کیا جاتا ہے۔ مردم شماری کی بنیاد پر ہی حلقہ بندیاں کی جاتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وسائل کی تقسیم کا فارمولا بھی آبادی کے تناسب کے حساب سے طے کیا جاتا ہے۔

اسدعمر نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ پچھلی مردم شماری کے نتائج جاری کرنے کے حق میں نہیں تھے۔ ہم چاہتے ہیں جو بھی کام ہو اس پر عوام کا بھی اعتماد ہونا چاہیے۔

وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ کراچی کےعلاوہ بلوچستان کے حلقوں نے بھی مردم شماری پر اعتراض اٹھایا تھا۔ مردم شماری کا شفاف عمل قومی یکجہتی کیلئے بھی معاون ثابت ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ مردم شماری کا تکنیکی طور پر درست ہونا ہی کافی نہیں بلکہ عوامی اعتماد بھی ضروری ہے۔

ایک سوال کے جواب میں اسد عمر نے کہا کہ دنیا میں سب سے زیادہ چینی ویکسین برآمد ہورہی ہے۔ دنیا میں اس وقت چین سب سے بڑا کورونا ویکسین ایکسپورٹر ہے۔ کل یا پرسوں 50 سال والے افراد کی ویکسینیشن سے متعلق اعلان کریں گے۔