سپریم کورٹ کا کراچی میں 6 سے زائد منزلہ عمارت کی تعمیر پر پابندی ختم کرنے کا فیصلہ

سپریم کورٹ آف پاکستان نے کراچی میں 6 سے زائد منزلہ عمارات کی تعمیر پر پابندی کا فیصلہ واپس لے لیا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے منگل کے روز سپریم کورٹ کی کراچی رجسٹری میں ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈویلپرز کے چئیرمین آباد حسن بخشی کی درخواست پر سماعت کی۔

چیف جسٹس نے حکم دیا کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے قوانین کے مطابق ہائی رائز تعمیرات کی جاسکتی ہیں۔

عدالت نے شہر میں قانون کے مطابق تعمیرات جاری رکھنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ چلیں انڈسڑی کے ساتھ  بحریہ ٹائون کو بھی فائدہ ہوجاۓ گا۔

سپریم کورٹ نے چھ ماہ قبل کراچی میں ہائی رائز تعمیرات پر پابندی عائد کی تھی۔

درخواست گزار آباد حسن بخشی نے ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا بڑا مسئلہ تھا، ہم سپریم کورٹ کے شکر گزار ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ عدالت کی جانب سے قانون کے مطابق بلڈنگز بنانے کا حکم دیا گیا ہے۔ درخواست گزار کا کہنا تھا کہ پابندی کے سبب 500 پراجیکٹس رکے ہوئے تھے اور مزید 500 پراجیکٹس کا مٹیریل تیار تھا وہ کام رکا ہوا تھا۔

آباد حسن بخشی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہم قانون کا احترام کرتے ہیں اور ایس بی سی اے کے ساتھ تعاون کریں گے، ہم ٹیکس ادا کرنے والے ہیں اور وزیراعظم کی ہاؤسنگ اسکیم میں ہم تعاون کرنے کے خواہاں ہیں۔