کراچی میں گیس کا بحران چھٹے روز بھی جاری، عوام کو مشکلات کا سامنا

کراچی سمیت صوبے بھر میں گیس کا بحران چھٹے روز بھی جاری ہے، جس کے باعث پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر کرنے والوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ حکام کے مطابق آج بھی گیس کی سپلائی معطل رہے گی۔ کم پریشر کے باعث گھریلو صارفین بھی پریشان ہیں۔ جب کہ پیپلزپارٹی نے آج احتجاج کا اعلان کردیا۔

کراچی سمیت سندھ بھر میں سی این جی اسٹیشنز کو گیس فراہمی کی بندش کا آج چھٹا روز ہے۔ سی این جی اسٹیشنز ویران پڑے ہیں۔ کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے برابر ہے۔ متبادل ٹرانسپورٹ کے خرچ نے کراچی والوں کو پریشان کردیا ہے، کم ٹرانپسپورٹ کے باعث مالکان کی جانب سے کرایوں میں من مانا اضافہ کردیا گیا ہے، تاہم بے بس شہری زائد کرایہ دینے پر مجبور ہیں۔

گیس بحران پر سی این جی اسٹیشنز مالکان کا کہنا ہے کہ کچھ معلوم نہیں کہ گیس کب ملے گی۔ گیس سپلائی معطل ہونے سے گھریلو صارفین بھی سردی میں دہرے عذاب میں مبتلا ہیں۔ گیس بحران سے کھانا اور صبح بچوں کے لیے ناشتہ بنانا مشکل ہوگیا۔

سب سے بڑے شہر میں گیس بحران پر پیپلزپارٹی نے بھرپور احتجاج کا اعلان کردیا۔ پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو نے دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ بحران پر قابو نہ پایا گیا اور گیس کی سپلائی بحال نہ ہوئی تو سندھ سے جانے والی گیس بند کر دیں گے۔

نثار کھوڑو کا کہنا تھا کہ 70 فیصد گیس ہماری ہے، جو ہمیں ہی نہیں مل رہی، جب کہ مرتضی وہاب کا کہنا تھا کہ سی این جی کی بندش سے ٹرانسپورٹ کا بھی بحران پیدا ہوگیا ہے، بحران سے امن وامان کا مسئلہ ہوسکتا ہے۔

صورت حال کی نزاکت دیکھتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے گیس بحران پر قابو پانے کیلئے سوئی سدرن اور سوئی ناردرن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کو تحلیل کردیا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ گیس کا مسئلہ ہر صورت ختم کریں گے، ذمہ داروں کو کسی صورت معاف نہیں کریں گے۔ واضح رہے کہ سوئی نادرن کے تحلیل کئے گئے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ارکان کی تعداد 14 ، جب کہ سوئی سدرن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں 11 ارکان شامل ہیں۔

شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت فوری طور پرسی این جی اسٹیشنز کو گیس کی فراہمی کے لئے اقدامات کرے تاکہ غریب سفر تو کرسکیں۔