یہودی عبادت گاہ میں لوگوں کو یرغمال بنانے والا برطانوی شہری نکلا

ٹیکساس: امریکی ریاست ٹیکساس میں سیناگاگ (یہودی عبادت گاہ) میں لوگوں کویرغمال بنانے والا شخص برطانوی شہری نکلا۔

امریکہ کی فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) نے ابتدائی تفتیش کے بعد کہا ہے کہ یہودی عبادت گاہ میں لوگوں کو یرغمال بنانے والے برطانوی شہری تھا۔ اس کی شناخت ملک فیصل اکرم کے نام سے ہوئی ہے۔

ایف بی آئی کے مطابق ٹیکساس میں یہودی عبادت گاہ میں 4 افراد کو یرغمال بنانے والے برطانوی شہری کی عمر تقریباً 44 سال تھی۔

امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق تاحال ایف بی آئی کو ایسے شواہد نہیں ملے ہیں جن سے اس امر کی تصدیق ہوتی ہو کہ ملک فیصل اکرم کے ساتھ کچھ دیگر افراد بھی شامل تھے۔

برطانیہ کی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ٹیکساس میں برطانوی شہری کی ہلاکت سے آگاہ ہیں اور اس سلسلے میں امریکی حکام سے رابطے میں ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق 44 سالہ برطانوی شہری کا تعلق لنکا شائر کے علاقے بلیک برن سے تھا۔

واضح رہے کہ گزشتہ شب امریکی ریاست ٹیکساس میں ایک شخص نے سیناگاگ (یہودی عبادت گاہ) میں داخل ہو کر ربی (یہودی عالم) سمیت 4 افراد کو یرغمال بنا لیا تھا۔

امریکی سکیورٹی حکام نے لوگوں کو یرغمال بنانے والے شخص کو کافی طویل آپریشن کے بعد فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا جس کے نتیجے میں تمام یرغمالیوں کو رہائی ملی تھی۔