یوکرین میں روسی حملے کے بعد مختلف شہروں میں افراتفری،10 افراد کی ہلاکت کا دعویٰ

یوکرین حکومت کی جانب سے روس کے طیارے اور ہیلی کاپٹر مار گرانے کا دعویٰ کیا گیا ہے، تاہم روسی وزارت دفاع کی جانب سے کوئی بیان سامنے نہ آسکا۔

روسی میڈیا کی جانب سے کہا گیا ہے کہ روسی فوجوں نے یوکرینی ایئربیس اور ڈیفنس سسٹم کو تباہ کردیا ہے۔

جمعرات کے روز یوکرین کے صدر نے روسی حملے کے اعلان کے بعد فوری ملک میں مارشل  لاء نافذ کردیا تھا۔ روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے یوکرین میں فوجی آپریشن کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ فوجی پیش قدمی کر رہی ہیں۔ جس پر یوکرین کے وزیر داخلہ نے تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ روس نے یوکرین پر حملے شروع کردیئے ہیں۔

حملوں پر یوکرینی صدر کا کہنا تھا کہ روس نے یوکرین کے انفراسٹرکچر اور بارڈرگارڈزپر میزائل حملے کیے ہیں جس سے متعدد شہر دھماکوں سے گونج اٹھے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق روس کی جانب سے کیف انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بھی حملہ کیا گیا ہے۔
صدر زیلنسکی نے مزید کہا کہ یوکرین پر روسی حملے سے متعلق امریکی صدر سے بات کی ہے، ہم مضبوط ہیں اور ہرچیز کے لیے تیار ہیں۔ دوسری جانب یوکرین کے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پیوٹن نے یوکرین پر مکمل حملہ کیا ہے اور یوکرین کے پر امن شہر حملوں کی زد میں ہیں، یوکرین اپنا دفاع کرے گا اور جیت جائے گا، انہوں نے مزید کہا کہ دنیا پیوٹن کو روک سکتی ہے اور اسے روکنا چاہیے، اب عمل کرنے کا وقت ہے۔

واضح رہے کہ روسی صدر کا یہ اعلان کریملین کے جانب سے جاری کیے گئے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں بتایا گیا تھا کہ مشرقی یوکرین کے باغی رہنماؤں نے حکومت کے خلاف ماسکو سے فوجی مدد مانگی ہے۔