مقبوضہ کشمیر: حکومت کا وادی میں صدارتی راج کے نفاذ کا فیصلہ

مقبوضہ کشمیر میں گورنر راج کی مدت مکمل ہونے پر قابض بھارتی حکومت نے وادی میں صدارتی راج کے نفاذ کا فیصلہ کرلیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق مقبوضہ وادی میں گورنر راج کی مدت آج مکمل ہورہی ہے اور گورنر ستیاپال ملک کی جانب سے بھیجی گئی رپورٹ کے بعد قابض مرکزی حکومت نے صدارتی راج کے نفاذ کا فیصلہ کرلیا۔

رواں سال جون میں مقبوضہ کشمیر اسمبلی میں کٹھ پتلی حکومت کی اتحادی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے حکمراں اتحاد سے علیحدگی اختیار کی جس کے بعد وزیراعلیٰ محمودہ مفتی کی حکومت اسمبلی میں اکثریت کھو بیٹھی۔

مقبوضہ جموں و کشمیر کے گورنر ستیاپال نے اسمبلی تحلیل کردی

اسمبلی میں مقررہ نشستیں نہ ہونے پر وادی میں گورنر راج کا نفاذ کیا گیا جس کی مدت آج مکمل ہورہی ہے۔

گورنر راج کے دوران مقبوضہ کشمیر میں ڈھونگ بلدیاتی انتخابات کا بھی انعقاد کیا گیا جس میں 95.73 فیصد کشمیریوں نے بائیکاٹ کر کے بھارت اور دنیا بھر کو واشگاف انداز میں اپنا فیصلہ سنایا۔

میونسپل انتخابات کا ٹرن آؤٹ 4.27 فیصد رہا، اتنا کم ٹرن آؤٹ وادی میں 1951 سے اب تک کم ترین ریکارڈ ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ صرف ضلع بارہ مولا میں ایک امیدوار صرف ایک ووٹ لے کر کامیاب ہوا۔