سسپریم کورٹ کا حکومت کو 14 جنوری تک آبادی کنٹرول کرنے کا ایکشن پلان تیار کرنے کا حکم

سپریم کورٹ میں آج آبادی میں اضافے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جس میں عدالت نے حکومت کو 14 جنوری تک آبادی کنٹرول کرنے کا ایکشن پلان تیار کرنے کا حکم دیا اور ریمارکس دیے کہ عدالت آبادی کنٹرول کرنے سے متعلق اپنا فیصلہ آئندہ سماعت پر دیگی۔

سماعت شروع ہوئی تو جسٹس اعجازالاحسن نے یستفسار کیا کہ حکومت نے آبادی کنٹرول کرنے کے معاملہ پر ایکشن پلان دینا تھا۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثارنے ریمارکس دیے کہ آبادی بڑھنے سے مسائل پیدا ہو رہے ہیں، آبادی کو کنٹرول کیے بغیر مسائل کو کم نہیں کر سکتے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ آبادی کا مسئلہ پانی اور ڈیمز سے بھی سنگین ہے۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ آبادی کنٹرول کے لیے باقاعدگی سے آگاہی مہم میڈیا پر چلے گی۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ صرف اشتہارات سے آبادی کنٹرول نہیں ہونی۔ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ سب سے پہلے آگاہی دی جائے گی، باقی اقدامات بعد میں کیے جائیں گے۔

چیف جسٹس نے جب اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ حکومت آبادی کنٹرول کا ایکشن پلان فراہم کرے، تو اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ایکشن پلان ابھی تیار نہیں ہوا۔

سیکریٹری صحت نے عدالت کو بتایا کہ دو صوبوں نے آبادی کنٹرول پروگرام بنا دیا ہے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے یسنفسار کیا کہ عدالت نے ایکشن پلان کے انتظار کی وجہ سے فیصلہ نہیں دیا۔ عدالت نے پھر حکومت کو 14 جنوری تک آبادی کنٹرول کرنے کا ایکشن پلان تیار کرنے کا حکم دیا اور سماعت 14 جنوری تک ملتوی کر دی۔