سندھ ہائیکورٹ کا حکومت کو پولیس میں نئے قوانین بنانے کا حکم

چیف سیکرٹری، آئی جی سندھ اور دیگر کے خلاف توہین عدالت درخواست پرآج سندھ ہائی کورٹ میں سماعت کی گئی ہے جس میں عدالت کی جانب ست سندھ حکومت کو چھ ہفتوں کے اندر محکمہ پولیس میں نئے قوانین بنانے کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت نے کیس کی سماعت 27 فروری تک ملتوی کردی ہے۔

وکیل درخواستگزار فیصل صدیقی نے کہا ہے کہ ڈیڑھ سال گزر چکا ہے لیکن توہین عدالت کی درخواست پر کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

اس پر ایڈووکیٹ جنرل سلمان طالب الدین نے بتایا کہ محکمہ پولیس کے حوالے سے نئے قوانین بنا کر کابینہ کو بھیج دیے گئے ہیں۔

انہوں نے عدالت سے درخوست کی ہے کہ محمکہ پولیس میں نئے قوانین کی منظوری کے لیے ہمیں مزید 6 ہفتوں کی مہلت دی جائے۔

اس حوالے سے وکیل درخواستگزار کا کہنا تھا کہ پہلے بھی تین بار پولیس کے نئے قوانین کابینہ کے ایجنڈے میں رہے ہیں لیکن ابھی تک اس حوالے سے کسی قسم کا عمل نہیں ہو سکا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر ڈیڑھ سال کے عرصے میں بھی حکومت پولیس قوانین نہیں بنا سکی تو حکومت کو ہی ختم ہونا چاہیے۔

وکیل درخواست گزار کرامت علی کا کہنا تھا کہ گذشتہ دور حکومت میں بھی حکومت نے اصلاحات نہیں کیے۔ نگران حکومت کے بعد نئی حکومت نے بھی رولز میں اصلاحات پر کام نہیں کیا۔

درخواست گزار نے یہ بھی بتایا کہ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے خلاف دو توہین عدالت درخواستین دائر ہیں۔

واضح رہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے ستمبر 2017 میں پولیس رولز میں اصلاحات کا حکم دیا تھا۔