سانحہ ساہیوال کے متاثرہ خاندان کو جے آئی ٹی قبول نہیں، قائمہ کمیٹی برائے داخلہ سے ملاقات

سانحہ ساہیوال کا متاثرہ خاندان سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ سے ملاقات کے لیے اسلام آباد پہنچ گیا ہے۔

سانحہ ساہیوال کے متاثرین کو ملاقات کے لیے قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی جانب سے بُلایا گیا ہے۔ پارلیمنٹ ہاؤس پہنچنے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے مقتول ذیشان کی والدہ نے کہا کہ ہمیں یہ جے آئی ٹی قبول نہیں ہے کیونکہ جس پولیس نے قتل کیس وہی جے آئی ٹی میں شامل ہے۔

انہوں نے وزیر اعظم عمران خان سے انصاف کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ میرے بیٹے کے اوپر جو دہشت گردی کا لیبل لگایا گیا ہے وہ غلط ہے اور اس پر سے دہشت گردی کے لیبل کو ہٹایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ذیشان ہمارا واحد سہاراتھا جو چھین لیا گیا اور ہمیں جیتے جی مار دیا گیا۔ ہم داخلہ کمیٹی سے انصاف مانگیں گے۔ اب تک جے آئی ٹی نے جوتحقیقات کی ہیں ہم اس سے مطمئن نہیں ہیں۔

مقتول خلیل کے بھائی نے کہا کہ ہم سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے چیئرمین رحمان ملک کے دعوت نامے پر کمیٹی اجلاس میں شرکت کے لئے آئے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ انصاف ملے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں جے آئی ٹی پر اعتماد نہیں ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ عدالتی کمیشن بنایا جائے۔

متاثرین کے اہلخانہ نے کہا کہ ہم سانحہ ساہیوال پر بنائی گئی جے آئی ٹی سے مطمئن نہیں ہیں اس معاملے پر جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔ یہ مقدمہ فوجی عدالتوں میں چلنا چاہیے تاکہ جلد انصاف فراہم ہو سکے۔