پاکستان کی اتفاق رائے سے سی پیک میں تیسرے فریق کو خوش آمدید کہا جائے گا۔ چینی سفارتخانہ

چین نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان کے پڑوسی اور انتہائی قابل اعتماد دوست چین نے یہ بھی کہا ہے کہ پاکستان کے سعودی عرب سمیت دیگر ممالک سے دوستانہ تعلقات بھی خوشگوار اہمیت کے حامل ہیں۔

اسلام آباد میں قائم چین کے سفارتخانے میں ڈپٹی چیف مشن کے منصب پہ فائز لیجیان زھو نے گزشتہ روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ٹوئٹر‘ پرجاری کردہ ایک پیغام میں کہا ہے کہ سی پیک دراصل بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ٹیو(بی آر آئی) کا ابتدائی منصوبہ ہے۔

چین کے ترجمان کے مطابق اس ضمن میں ہم وسیع مشاورت، باہمی تعاون ومفاد، کھلے دل و دماغ اور شفافیت کے زریں اصولوں پر عمل پیرا ہیں۔

چینی سفارتخانے میں ڈپٹی چیف آف مشن کے منصب پہ فائز لیجیان زھو کے مطابق پاکستان اور چین کے مابین اصولی طور پر اس بات پر اتفاق رائے ہو چکا ہے کہ سی پیک میں تیسرے فریق کو خوش آمدید کہا جائے گا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری پیغام میں انہوں نے کہا کہ سی پیک خطے معاشی و اقتصادی ترقی کے بڑھاؤ کا سبب بنے گا اور ایک دوسرے کو رابطے کے ذریعے مشترکہ ترقی کے مواقع فراہم کرنے کا ذریعہ ہو گا۔

چین کے سفارتخانے میں ڈپٹی چیف مشن کے منصب پہ فائز لیجیان زھو نے واضح کیا کہ چین، پاکستان کی مشاورت اور اتفاق رائے سے تیسرے فریق کو بھی سی پیک میں خوش آمدید کہنے کے لیے تیار ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے اپنے پہلے دورہ سعودی عرب کے دوران چین اور پاکستان کے مشترکہ منصوبے سی پیک میں تیسراپارٹنربننے کی دعوت دی تھی۔ اس دعوت کے بعد کچھ حلقوں کی جانب سے یہ تاثر دیا گیا تھا جیسے چین اس دعوت پر خوش نہیں ہے.

چینی سفارتخانے کے ڈپٹی چیف آف مشن نے گزشتہ دنوں اپنے ایک انٹرویو میں بھی واضح کیا تھا کہ سی پیک میں سعودی عرب سمیت کسی بھی ملک کی شمولیت پران کے ملک کے کوئی تحفظات نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سی پیک اوپن پروگرام ہے اورہمیں امید ہے کہ اس میں مزید ممالک بھی شامل ہوں گے۔

چین کے ڈپٹی چیف آف مشن کا کہنا تھا کہ تیسرے فریق کو بطور اسٹریٹیجک پارٹنر شامل کرنے کے لیے پاکستان اور چین بات چیت کرسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سی پیک میں فنانسنگ، مشترکہ منصوبوں اور آلات کی فراہمی سے بھی شامل ہوا جا سکتا ہے۔

ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ تھرڈ پارٹی پہلے سے ہی موجود ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے مثال دی تھی کہ کروٹ ہائیڈروپاوراسٹیشن میں 15 فیصد فنانسنگ آئی ایف سی اور عالمی بینک کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پورٹ قاسم پاورپلانٹ بھی چین اورقطر کا مشترکہ منصوبہ ہے۔