عمرکوٹ: پیپر شروع ہونے سے پھلے ہی واٹسپ کے ذریعے اردو اورسندھی جماعت کا پرچہ آؤٹ

میرپورخاص بورڈ کے زیراہتمام نویں اور دسویں کے امتحانات جاری ہیں۔ آج نویں جماعت کا سندھی اور اردو کا پرچہ لیا جا رہا ہےعمرکوٹ کی تحصیل کنری میں پیپر شروع ہونے سے پھلے ہی واٹسپ کے ذریعے اردو اورسندھی جماعت کا پرچہ آؤٹ ہوگیاہے۔ دفعہ 144 لاگو ہونے کے باوجود شھر بھرمیں فوٹو اسٹیٹ دکانیں کھلی ہیں ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپر شروع ہونےکے بیس منٹ کے اندر مکمل حل شدہ پیپر بھی امتحانی مراکز تک پہنچ گیا ہے۔ امتحانی سینٹرز کے بلاکوں کی کھڑکیوں کے باہر حل شدہ پرچوں کی بھرمار دکھائی دے رہی ہے۔ امتحانی مراکز کے باہر بوٹی مافیا سرگرم، انتظامیہ بے بس دکھائی دے رہی ہے۔

یاد رہے گزشتہ روز بھی کراچی سے تعلیمی بورڈ کے زیر اہتمام منعقدہ امتحانات میں نقل کا نہ رکنے والا سلسلہ برقرارہے ۔ امتحانی مراکز میں موبائل فونز اور گائیڈوں کا آزادانہ استعمال جاری ہے ۔ انویجلیٹرز کی موجودگی میں طلبا بے خوف ہوکر موبائل فون کے ذریعے پرچے حل کرنے میں مصروف ہیں۔ سر عام ہونے والی نقل نے کیمسٹری کا مشکل پرچہ آسان بنا دیا ہے ۔ اساتذہ کی معطلی کے باوجود نقل مافیاں سرگرم ہے۔ مختلف مرکز امتحانات کے باہر حل شدہ پرچہ دستیاب ہیں۔

مختلف امتحانی مراکز میں ایک ہی بنچ پر تین تین طلبا کو بٹھا کر پرچہ لیا جارہاہے۔ نقل پر قابو پانے کے لئے بنائی گئی 29 چھاپہ مار ٹیمیں بھی کہیں نظر نہیں آرہیں۔

یاد رہے یکم اپریل کو کراچی میں میٹرک امتحانات کے پہلے ہی روز بورڈ کے انتظامات کی قلعی کھل گئی تھی۔ نقل مافیا نے جدت اپنالی۔نقل کےلئے واٹس اپ گروپ بنالئے ۔جن پر حل شدہ پیپر دستیاب تھا۔

اسی پر بس نہیں کی گئی بلکہ نقل کے لیے پھرے اور موبائل فون کا استعمال بھی ہوتا رہا۔ چیئرمین میٹرک بورڈ نے امتحانی مراکز کا دورہ کرتے ہوئے کہا کہ واٹس ایپ گروپ کے معاملے پر ایف آئی اے سے رجوع کیا جائے گا۔

وزیر تعلیم سردار شاہ بھی جب سے امتحانات شروع ہوئے ہیں مختلف شہروں میں جاکر امتحانی سینٹرز کے دورے کررہے ہیں۔ اس کے باوجود نقل کا سلسلہ بدستور جاری ہے ۔