نیا تعلیمی سال جلد شروع کرنے پر نجی اسکولوں کے خلاف کاروائی

نجی اسکولوں کی جانب سے نیا تعلیمی سال یکم جولائی کے بجائے اپریل کے مہینے سے ہی شروع کرنے پرڈائریکٹوریٹ آف پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز سندھ نے نجی 2 اسکولوں کی رجسٹریشن معطل اور2 اسکولوں کوسیل کردیا۔

ڈائریکٹوریٹ آف پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز سندھ کی رجسٹرار رفیعہ جاوید نے ٹیم کے ہمراہ گلشن ظہور صدر اور لائنز ایریا کے نجی اسکولوں کا دورہ کیا تو معلوم ہوا کہ صدر میں ماریہ گرامراسکول اور گلشن ظہورمیں موجود اقرا اطفال نے نیا تعلیمی سال یکم جولائی سے شروع کرنے کے بجائے اپریل سے ہی شروع کر دیا ہے جس پر دونوں اسکولوں کی رجسٹریشن معطل کر دی گئی جبکہ لائنز ایریا میں قائم اسکول ایڈیفے کی 2 برانچوں کو سیل کردیا گیا دونوں اسکول ڈائریکٹوریٹ سے رجسٹرڈ نہیں تھے جس کی وجہ سے انھیں سیل کیا گیا۔

ڈائریکٹوریٹ آف پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز کی رجسٹرار رفیعہ جاوید کے مطابق سینٹ پیٹرکس بوائز ہائی اسکول کا بھی دورہ کیا گیا تھا تاہم اس اسکول کا نتیجہ اپریل کے آخری ہفتے میں آئے گا جس کے بعد یہاں نیا تعلیمی سال جولائی سے شروع ہوگا۔

رجسٹرار رفیعہ جاوید کے مطابق محکمہ تعلیم کی اسٹیئرنگ کمیٹی ایک اعلیٰ باڈی ہے جس میں میٹرک سسٹم کے اسکولوں میں یکم جولائی سے نیا تعلیمی سال شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور اسٹیئرنگ کمیٹی کے فیصلے پر عمل کرنا تمام اسکولوں پر لازم ہے تاہم شہر کے بعض اسکولوں میں ماہ اپریل سے ہی نیا تعلیمی سیشن شروع کرنے کی اطلاعات ملی تھی جس پر محکمہ نے کارروائی کی پرائیویٹ اسکولز اسٹیئرنگ کمیٹی کے فیصلے کی پاسداری کریں ورنہ انھیں محکمہ جاتی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔