حمزہ علی عباسی کے بعد کیا کبریٰ خان بھی انڈسٹری چھوڑنے جا رہی ہیں؟

اداکارہ کبریٰ خان نے کہا ہے کہ وہ مرتے وقت اپنے رب کا سامنا کرنے سے خوفزدہ  نہیں ہونا چاہتیں۔ میں اپنی زندگی میں توازن برقرار رکھ سکی تو ٹھیک ورنہ شاید میں یہ سب چھوڑ کر کہیں اور چلی جاؤں۔

جوانی پھر نہیں آنی 2 اور پرواز ہے جنوں جیسی فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھانے والی اداکارہ کبریٰ خان کو شوبز انڈسٹری میں بہت جلد مقبولیت حاصل ہوگئی۔ ان دنوں ان کا ڈراما ’’الف‘‘ نجی چینل سے نشر کیا جارہا ہے جس میں وہ حسن جہاں نامی خاتون کا کردار نبھارہی ہیں۔ حال ہی میں کبریٰ خان نے بی بی سی ایشین نیٹ ورک کو انٹرویو دیتے ہوئے اپنے ڈرامے’’الف‘‘اوراپنی زندگی میں ہونے والی تبدیلیوں کے متعلق گفتگو کی۔

کبریٰ خان نے بتایا کہ ڈراما ’’الف‘‘ اللہ کا ان کے لیے تحفہ ہے اوریہ ڈراما اس وقت ان کے پاس آیا جب وہ اپنی زندگی میں پریشان تھیں اور لوگوں کو خود سے دور کررہی تھیں۔ یہاں تک کہ وہ یہ سوچنے لگی تھیں کیا وہ اس انڈسٹری کا حصہ بننا چاہتی ہیں؟

اپنی زندگی میں رونما ہونے والی مثبت تبدیلیوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے کبریٰ خان نے کہا کہ ہر انسان اپنی زندگی میں ایسی صورت حال سے دوچار ہوتا ہے جو اس کی زندگی میں تبدیلی کا باعث بنتا ہے۔ وہ آج جو بھی ہیں اور جیسی بھی ہیں، اس پر خوش ہیں لیکن وہ اس سے بھی بہتر بننے کی کوشش کررہی ہیں۔ تاہم وہ ماضی کے مقابلے میں آج زیادہ پرسکون ہیں۔

کبریٰ خان نے کہا کہ ایک وقت تھا کہ انڈسٹری میں کام کرتے ہوئے مجھے خواہش تھی کہ میرے ڈرامے دیگر لوگوں سے زیادہ پسند کیے جائیں بعد ازاں میں نے سوچا کہ میرا کسی سے کوئی مقابلہ نہیں اور میں آج جو بھی ہو اس پر مطمئن ہوں۔ میں آج 50 ایوارڈز حاصل کرسکتی ہوں، آسکر حاصل کرسکتی ہوں لیکن اگر میں اچھی انسان نہیں تو اس سب کا کوئی مطلب نہیں ۔

کبریٰ خان نے کہا کہ انہیں گزشتہ برس اپنے اندر آنے والی روحانی تبدیلیوں کا احساس ہوا جس کے بعد ان کی زندگی اور سوچ میں تبدیلی آنی شروع ہوئی۔ پیسہ اور مادیت پسندی ہاں یہ سب دنیا کا حصہ ہیں لیکن مجھے احساس ہوا کہ میں ان چیزوں کو اپنے ساتھ کہیں بھی نہیں لے جاسکتی۔ ان ایوارڈز کی خدا کے سامنے کوئی اہمیت نہیں اور شاید اسی سوچ کی وجہ سے مجھے احساس ہوا کہ بستر مرگ پر میں اپنے رب کے سامنے جاتے ہوئے خوفزدہ نہیں ہونا چاہتی۔

ڈراما سیریل ’’الف‘‘ میں اپنے کردار حسن جہاں کے بارے میں بتاتے ہوئے کبریٰ خان نے کہا کہ ان کے پاس جب اسکرپٹ آیا تو انہیں حسن جہاں کے کردار سے محبت ہوگئی کیونکہ بہت ساری جگہوں پر ان کی زندگی حسن جہاں کے کردار سے جڑتی ہے۔ لوگ شوبز میں کام کرنے والوں کی زندگیوں کے بارے میں نہیں جانتے کوئی نہیں جانتا ہم اپنی نجی زندگی میں کیسے ہیں، کتنی عبادت کرتے ہیں، ہمارا اللہ سے تعلق کیسا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ لوگوں کو ہمارے بارے میں یہ غلط فہمی ہوتی ہے کہ ان کا تعلق شوبز سے ہے تو یہ غلط ہیں کرپٹ ہیں، لیکن یہ سچ نہیں ہے۔ مثال کے طور جیسے سیاستدانوں کے بارے میں لوگ سوچتے ہیں کہ یہ سیاست میں ہے تو غلط ہے بالکل اسی طرح کی لوگوں کی سوچ شوبز سے وابستہ لوگوں کے بارے میں بھی ہے۔

کبریٰ نے کہا مجھے فن سے محبت ہے۔ میں آج بھی مغربی انداز کے کپڑے پہنتی ہوں، میوزک سنتی ہوں لیکن جب تک آپ کی نیت صحیح ہے اور آخر میں اگر سب کچھ ٹھیک رہا اور مجھے ایسا لگتا ہے کہ میں اپنی زندگی میں توازن برقرار رکھ سکی تو ٹھیک ورنہ شاید میں یہ سب چھوڑ کر کہیں اور چلی جاؤں۔

واضح رہے کہ اداکارہ کبریٰ خان جوانی پھر نہیں آنی 2، جیو ٹی وی کے ڈرامہ سیریل الف، الف اللہ اور انسان جیسے متعدد ڈرامہ سیریل میں اداکاری کر چکی ہیں۔

یاد رہے کہ حالیہ چند ماہ کے دوران پاکستان کی ڈرامہ اور فلم انڈسٹری سے تعلق رکھنے والی کئی شخصیات اسلام کی جانب مائل ہو کر یا تو شوبز انڈسٹری سے کنارہ کشی اختیار کر چکی ہیں یا پھر انہوں نے انڈسٹری سے کچھ وقفہ لے لیا ہے، ان میں اداکار حمزہ علی عباسی اور یشمہ گل سرفہرست ہیں۔