لیجنڈ گلوکار احمد رشدی کو مداحوں سےبچھڑے 36 برس بیت گئے

پاکستانی فلموں میں خوبصورت گیتوں سے شہرت حاصل کرنے والے لیجنڈ گلوکار احمدرشدی کو دنیا سے رخصت ہوئے 36 برس بیت گئے۔

احمد رشدی 1934 کو حیدر آباد دکن میں پیدا ہوئے تقسیم ہند کے بعد احمد رشدی کراچی منتقل ہو گئے۔ انھوں نے اپنے فنی کیریئر کا اغاز ریڈیو پاکستان کراچی سے کیا۔ معروف گانے ’’بندر روڈ سے کیماڑی چلی میری گھوڑا گاڑی‘‘ نے انھیں شہرت کی بلندیوں تک پہنچا دیا۔ منفرد آواز کے مالک احمد رشدی نے تین دہائیوں تک فلم نگری پرراج کیا۔ شوخ وچنچل اور مزاحیہ گانوں میں ان کاکوئی ثانی نہیں تھا۔

احمد رشدی کی بطور گلوکار پہلی فلم ’’کار نا مہ‘‘ تھی جو کہ ریلیز نہ ہو سکی جب کہ بطور فلمی گلوکار آخری فلم ’’مشرق و مغرب‘‘ تھی۔ انھوں نے پاکستانی فلموں میں 5000 سے زائد گانے ریکارڈ کروائے۔ وحید مراد پر فلمایا گیا گانا ’’کوکوکو رینا‘‘ انھیں مقبولیت کی بلندیوں پر لے گیا۔

پاکستانی فلمی موسیقی کے لیے انتھک کام کرنے پر ان کی صحت گرنا شروع ہو گئی اور وہ11 اپریل 1983 کو دل کے دورے کے باعث 44 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ احمد رشدی کو نگار ایوارڈ، لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ، بیسٹ سنگر آف دی میلینئم ایوارڈ اور لیجنڈ ایوارڈ سمیت متعدد اعزازات سے نوازا گیا۔ وفات کے 20 برس بعد ان کی خدمات کے عوض سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے انھیں ستارہ امتیاز سے نوازا۔