چاند کا پانچواں بڑا ٹکڑا فروخت کیلئے پیش۔

انسانی تاریخ کے آغاز سے ہی چاند کو قدرت، محبت اور خوشحالی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ چاند کی تشکیل ساڑھے چار ارب سال قبل ہوئی تھی جب مریخ جتنا بڑا سیارہ زمین سے ٹکرایا تھا۔

زمین پر موجود چاند کا پانچواں بڑا ٹکڑا برطانیہ میں 25 لاکھ ڈالرز کے عوض فروخت کے لیے پیش کردیا گیا ہے۔

کسی اور دنیا کے ٹکڑے کو اپنے ہاتھ میں رکھنے کا تجربہ ایسی چیز ہے جو آپ کبھی نہیں بھول سکتے۔

ماہرین کے مطابق اس ٹکڑے کا سائز فٹ بال جتنا ہے جبکہ وزن 13 اعشاریہ 5 کلوگرام ہے۔ یہ زمین پر چاند کا پانچواں بڑا ٹکڑا ہے جو دنیا کے مشہور صحرا ریگستان سے ملا ہے۔

سائنس دانوں نے اس کا موازنہ چاند پر بھیجے گئے اپالومشن کے دوران وہاں سے لائی گئی چٹانوں سے کیا جس معلوم ہوا کہ یہ واقعی چاند کا ٹکڑا ہے۔ 1960 اور 1970 کی دہائی میں اپالو مشن سے تقریبا 400 کلوگرام چاند کی چٹانیں زمین پر لائی گئی تھیں۔

سائنس دان ان چٹانوں کی کیمیائی اور آئسوٹوپک ترکیبوں کا تجزیہ کرنے میں کامیاب رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ فروخت کیلئے پیش کیا گیا ٹکڑا واقعی چاند کا حصہ ہے۔