علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے لفظ مسلم ہٹانےکی تجویز پر بھارتی گولڈ میڈلسٹ اولمپیئن برہم

بھارتی ہاکی ٹیم کے سابق کھلاڑی اور گولڈ میڈلسٹ اولمپیئن ظفر اقبال نے کہا ہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے لفظ مسلم ہٹانے کی مودی حکومت کی تجویز شرمناک اور مسلمان دشمنی پر مبنی ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی ہاکی ٹیم کے گولڈ میڈلسٹ اولمپیئن ظفراقبال نے کہا کہ مودی حکومت علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو دہشت گردوں کی نرسری قرار دے کر عظیم اور تاریخی درس گاہ کو تعصب اور نفرت کی نذر کرنا چاہتی ہے۔

اولمپیئن ظفراقبال نے کہا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی وہ درس گاہ ہے جس سے مجھ سمیت بھارتی ہاکی ٹیم کے نامور کھلاڑی فارغ التحصیل ہیں اور ہم میں سے کوئی بھی بی جے پی سے کم حب الوطن نہیں ہے۔

ظفراقبال کا مزید کہنا تھا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے نام سے لفظ مسلم حذف کرکے صرف علی گڑھ یونیورسٹی کردینے سے نہ صرف جامعہ کی تاریخی حیثیت ختم ہوجائے گی بلکہ سیکیولر بھارت کے دامن پر یہ عمل ایک داغ بن جائے گا۔

اولمپیئن ظفراقبال بی جے پی کے حکومتی اراکین کے مسلم گڑھ یونیورسٹی پر اعتراضات پر ردعمل دے رہے تھے۔ رواں برس اپریل میں راجیہ سبھا کے رکن اور سبراما کے سوامی نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو دہشت گردوں کی آماج گاہ قرار دیا تھا۔

علاوہ ازیں علی گڑھ سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمنٹ ستیش گوتم نے یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو لکھے اپنے خط میں کہا تھا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی پر طالبان کی ذہنیت غالب ہے اور یہ دہشت گردی کی درس گاہ بن گئی ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ دو برس سے بھارتی جنتا پارٹی کے رہنماؤں کی جانب سے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے نام میں سے لفظ مسلم کو ہٹا کر علی گڑھ یونیورسٹی رکھنے کی تجویز دی جا رہی ہے۔