روس اور یوکرائن کے درمیان ایک بار پھر حالات کشیدہ

روس اور یوکرائن کے درمیان ایک بار پھر حالات کشیدہ ہوگئے۔ روس نے کرائمین جزیرہ نما میں یوکرائن بحریہ کے دو جنگی کشتیوں سمیت تین جہازوں پر حملہ کرکے ان پر قبضہ کرلیا۔ یوکرائن پارلیمنٹ ملک میں مارشل لا کا نفاذ کرنے پر ووٹنگ ہو گی۔

دونوں ملکوں کے دومیان تناو کافی عرصے سے جاری ہے۔ روس نے یوکرائن پر ملک کی حدود میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے کا الزام لگایا ہے۔ روس کی جانب سے یوکرائن کے دو جنگی جہاز سمیت تین کشتیوں پر قبضے کے بعد حالات کشیدہ ہیں۔روس اور یوکرائن کے مابین حالات ایک بار پھر کشیدہ ہوگئے ہیں جب روس نے بحیرہ اسود میں کرائمین جزیرہ نما میں یوکرائن بحریہ کے دو جنگی کشتیوں سمیت تین جہازوں پر حملہ کیا اور ان پر قبضہ کر لیا ہے۔ اس واقعے میں یوکرائنی کشتیوں میں موجود عملہ زخمی بھی ہوا ہے۔

دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر اس واقعہ کی ذمہ داری عائد کی ہے۔ یوکرائن کی پارلیمان کے ممبران ملک میں مارشل لا عائد کرنے کے بارے میں ووٹنگ کریں گے۔ روس نے اپنے جواب میں بحیرہ اسود اور بحیرہ آزوف کے سنگم پر آبنائے کرچ پر قائم برج کے نیچے اپنا بحری ٹینکر کھڑا کر کے راستہ بلاک کر دیا ہے۔یوکرائن کی قیادت کی اہم ملاقات میں صدر پیٹرو پوروشینکو نے ملک کی قومی سلامتی اور دفاعی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے روسی اقدامات کو بلا اشتعال اور دیوانہ پن قرار دیا۔ 2014 میں کرائمین جزیرہ نما پر روسی قبضے کے بعد دنوں ممالک کے حالات میں کشیدگی حالیہ دنوں میں دوبارہ بڑھ گئی ہے۔

دوسری جانب یوکرین کے اتحادی نیٹو اور یورپی یونین نے اس معاملے پر فریقین سے صبر و تحمل سے کام لینے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے روس سے مطالبہ کیا ہے کہ یوکرین کو بحری راستے پر آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت دی جائے۔