اب مقدمات میں کسی کو کسی صورت التوا نہیں ملے گا۔ چیف جسٹس

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے واضح کیا ہے کہ دنیا بھر میں کہیں بھی التوا کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی، اور اب مقدمات میں کسی کو کسی صورت التوا نہیں ملے گا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں ویڈیو لنک کے ذریعے کوئٹہ رجسٹری میں قتل کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس دئیے کہ مقدمات سننے کیلئے مقررکئے جاتے ہیں، ملتوی کرنے کیلئے نہیں، دنیا بھر میں کہیں بھی التوا کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی اور اب مقدمات میں کسی کو کسی صورت التوا نہیں ملے گا۔

چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ماڈل کورٹس کی وجہ سے دس اضلاع میں قتل کے زیرالتوا مقدمات کی تعداد صفر ہوچکی ہے آئندہ ایک ماہ میں پچاس اضلاع میں قتل کے زیرالتوا مقدمات کی تعداد صفر ہوجائے گی۔

چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ جب شہادتیں کمزورہوں گی توملزم عدالتوں سے بری ہی ہوں گے۔

بعد ازاں کیس کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے قتل کے ملزم عبدالناصر کی بریت کے خلاف اپیل مسترد کی، مقتول عبدالصمد کے سوتیلے بیٹے عبدالرشید نے ملزم عبدالناصر کی بریت کے خلاف اپیل دائر کی تھی۔

چیف جسٹس نے دوران سماعت ریمارکس دئیے کہ ملزم پر الزام ہے کہ اس نے فون کال پر جان سے مارنے کی دھمکی دی، مگر عدالت میں کوئی کال ریکارڈ پیش نہیں کیا گیا اور پولیس حراست میں ملزم سے اعترافی بیان لیا گیا جس کے بعد مقتول کا بیٹا ہی گواہ بن گیا۔

چئف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ہم نے جھوٹے گواہوں کےخلاف بھی کارروائی شروع کر رکھی ہے اور اس وقت ملک کے مختلف اضلاع میں 15 جھوٹے گواہوں کے خلاف کاروائی چل رہی ہے۔