پاکستان میں آج کسانوں کا قومی دن منایا جا رہا ہے۔

زراعت کو پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے۔ لیکن بد قسمتی سے کسان بتدریج روبہ زوال ہے۔

خاص طور پر چھوٹے کسانوں کے لئے تو ہر آنے والا دن مشکلات کا نیا سامان لے کر طلوع ہوتا ہے۔
جدید ترقی یافتہ دور میں بھی حکمرانوں کی ناقص پالیسیوں کے باعث کسان پستی کی عمیق گہرائیوں میں اترتے جا رہے ہیں۔

حکمرانوں کی کامیاب پالیسیاں صرف کاغذات اور اشتہارات کی حد تک ہی محدود ہیں جبکہ کھیت کھلیان ٹاؤنز کی شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں تو کہیں فصلوں کی جگہ انڈسٹریز لگائی جا رہیں ہیں۔
دیہی علاقوں میں بنیادی سہولیات کا فقدان، زرعی محاصل میں بتدریج اضافہ اور اجناس کی قیمتوں میں مسلسل کمی کسانوں کے زوال کا سبب ہیں۔

پاکستان جیسے زرعی ملک میں کسان کی زبوں حالی کسی المیے سے کم نہیں۔
زراعت کے شعبے کو نقصان سے بچانے کیلئے حکومتوں کو انقلابی اقدامات اٹھانا ہونگے۔

کھیتوں کو متبادل روز گار کے طور پر استعمال کرنا آنے والے وقت کی خطرناک الارمینگ ہے اور اگر کسان کی حالت زار کی طرف توجہ نہ دی گئی تو یقیناً غذائی قلت ہمارا مقدر ہو گی۔