پاکستان میں6 ماہ بعد تعلیمی ادارے کھل گئے۔

عالمی وبا کورونا وائرس کے سبب پاکستان میں بند تعلیمی ادارے آج 6 ماہ بعد کھل گئے ہیں۔ پہلے مرحلے میں میٹرک، انٹر اور یونیورسٹی کے طلبہ کو بلایا گیا ہے جبکہ پرائمری کی کلاسز بعد میں شروع ہوں گی۔

وزیراعظم عمران خان نے لاکھوں بچوں کو اسکولوں میں واپس آنے پرخوش آمدید کہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر بچے کی حفاظت یقینی بنانا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔ ہماری ترجیح ہے کہ ہر بچہ محفوظ طریقے سے اسکول جائے۔

وفاقی وزیرتعلیم شفقت محمود نے چھ ماہ بعد تعلیمی ادارے کھلنے پر کہا کہ طلبا کو تعلیمی اداروں میں واپسی پر خوش آمدید کہتا ہوں، بچوں کی صحت و سلامتی یقینی بنانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ والدین، اساتذہ اور طلبا کورونا کا پھیلاؤ روکنے کے لیے ایس او پیز پر عمل کریں۔

معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا ہے کہ ہم تعلیمی ادارے کھلنے پر پہلے دن طلبہ اور بچوں کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ مگر احتیاطی تدابیر کو مدنظر رکھنا مت بھولیے۔

اسکول انتظامیہ والدین، بچوں اور اساتذہ کو مل کر ان تدابیر پر عمل کرنا ہے۔ کلاس رومز میں مناسب فاصلہ رکھیں، ہاتھوں کو بار بار دھوئیں، ماسک پہنیں اور سینیٹائزر استعمال کریں۔

تعلیمی اداروں میں کورونا سے بچاؤ کیلئے اسپرے کیے گئے ہیں اور احتیاطی تدابیر کے بینرز بھی آویزاں ہیں۔
پہلے مرحلے میں نویں، دسویں اور انٹرمیڈیٹ کے طلبہ کو 15 ستمبر سے سکول بلایا جائے گا۔ اس کے ایک ہفتے بعد 23 ستمبر کو چھٹی سے آٹھویں جماعت کے طلبا کو سکول آنے کی اجازت ہوگی۔

جبکہ تیسرے مرحلے میں تمام پرائمری سکول کے بچوں کو 30 ستمبر سے سکول جائیں گے۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) نے والدین اور اسکولوں کیلئے ایس او پیز جاری کیے ہیں۔

ایک کلاس روم میں بچوں کی آدھی تعداد کو بٹھایا جائے گا، جیسا کہ اگر ایک کلاس میں 40 بچے پڑھتے ہیں تو ایک دن 20 بچے آئیں گے اور اگلے دن 20 بچوں کو سکول بلایا جائے گا۔

بیماری کا پھیلاؤ روکنے کے لیے سماجی دوری اپنائی جائے گی۔ بچے اور والدین ماسک لازمی پہن کر سکول آئیں چاہے کپڑے کا ماسک ہی کیوں نا ہو۔ اسکول میں بچوں کو ہاتھ دھونے کی ترغیب دی جائے گی اور اس کو یقینی بنانا تعلیمی اداروں ذمہ داری ہوگی۔