بلاول بھٹو کو سنگین سیکیورٹی خدشات لاحق۔ انٹیلی جینس اداروں کی رپورٹس

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سیکیورٹی خدشات سے متعلق درخواست کی سماعت آج سندھ ہائیکورٹ میں ہوئی۔

بلاول کے وکیل اختر حسین ایڈووکیٹ نے بتایا کہ انٹیلی جینس اداروں کی رپورٹس کے مطابق بلاول بھٹو کو سنگین سیکیورٹی خدشات لاحق ہیں۔

چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ احمد علی شیخ نے کہا کہ ہر شہری کا تحفظ اور سیکیورٹی فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ عدالت کہ جواب دیتے ہوئے اختر حسین ایڈووکیٹ بولے کہ ہم ہر فرد کے لیے سیکیورٹی نہیں مانگ رہے۔

بلاول کے وکیل کا مزید کہنا تھا کہ بلاول کی سیکیورٹی صوبائی حکومت کا مسلہ نہیں وفاق کی ذمہ داری ہے، بلاول بھٹو سندھ کے علاوہ بھی سفر کرتے ہیں۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ پہلے یہ بتایا جائے کہ سپریم کورٹ نے سرکاری عہدہ نا رکھنے والوں کی سیکیورٹی سے متعلق کیا احکامات جاری کیے ہیں۔

سندھ ہائیکورٹ نے وی وی آئی پیز کی سیکیورٹی سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کی کاپی طلب کرلی، چیف جسٹس نے کہا کہ ہم جائزہ لینا چاہتے ہیں کہ سپریم کورٹ نے وی وی آئی پیز کی سیکیورٹی سے متعلق جو نوٹس لیا تھا اس کا کیا بنا۔

عدالت نے پھر بلاول بھٹو کی سیکیورٹی سے متعلق درخواست کی مزید سماعت 15 جنوری تک ملتوی کردی۔