وزیر خزانہ اسد عمر کی زیر صدارت کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس آج ہو گا

وزیر خزانہ اسد عمر کی زیر صدارت کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس آج ہو گا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں گندم کی فاضل پیداوار کی برآمد پر غور کیا جائے گا۔

حکومت کے پاس دس لاکھ ٹن گندم کے فاضل ذخائر موجود ہیں۔ گندم کی برآمدات بڑھانے کیلئے گزشتہ سال حکومت نے ایک سو ساٹھ ڈالر فی ٹن سبسڈی مقررکی تھی۔ گندم کی مقامی پیداواری لاگت زیادہ ہونے کے باعث گزشتہ چار سالوں سے سبسڈی کے باوجود گندم برآمد نہیں کی جاسکی۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں چینی کی پیداواری لاگت اورقیمت پر بھی غور کیا جائے گا۔ حکومت نے شوگرملوں میں ٹیکس چوری روکنے کیلئے مؤثر اقدامات کرنے کا حکم دیا ہے۔

سندھ میں اومنی گروپ اور پنجاب میں شریف خاندان کی شوگر ملوں کی بندش کے باعث صورتحال اورحکمت عملی پر بھی غور ہو گا۔ وزارت صنعت وپیداوار نے اسٹیل مل کے دوران ملازمت وفات پانے والے ملازمین کے واجبات کی ادائیگی کیلئے حکومت سے گرانٹ مانگ لی۔ گرانٹ ملنے کی صورت میں وارثین کو تنخواہوں، گریجوئٹی اورپروویڈنٹ فنڈ کے واجبات فوری ادا کیے جائیں گے۔

اجلاس میں غیر سرکاری تنظیم تخفیف غربت فنڈ کو غیرملکی قرض کی ادائیگی سے مستثنیٰ قراردینے کی سمری پر بھی غور کیا جائے گا۔