معروف قانون دان اور سماجی کارکن عاصمہ جہانگیر کی پہلی برسی آج منائی جارہی ہے

معروف قانون دان اور سماجی کارکن عاصمہ جہانگیر کی پہلی برسی آج منائی جارہی ہے۔ ان کا انتقال گزشتہ برس 11 فروری کو دل کو دورہ پڑنے کے سبب ہواتھا۔

عاصمہ جہانگیر 27 جنوری 1952 میں لاہور میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے سماجی کارکن، قانون دان اورانسانی حقوق کی علم بردار کی حیثیت سے اپنی پہچان بنائی۔

زمانہ طالب علمی میں ہی نامساعد حالات میں دوٹوک موقف اورمشکل صورت حال میں آزادی رائے کی بدولت شہ سرخیوں میں آگئیں۔ وکالت کا شعبہ اختیار کیا توزندگی بھرملزم کو اپنے دفاع حق دلانے کےمسلمہ اصول پرقائم رہیں۔

عاصمہ جہانگیرنے ہمیشہ جمہوریت کی بحالی کیلئے کام کیا اوراداروں کی سیاسی مداخلت پرتنقید کی۔ انہوں نےنظام عدل میں بہتری اورججز کی شفاف تعیناتیوں پرزوردینے کے ساتھ عدلیہ بحالی تحریک میں بھی فعال کردار ادا کیا۔

اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا ایوارڈ عاصمہ جہانگیر کے نام
انہوں نے 1980 میں اپنی بہن حنا جیلانی اور دیگر خواتین کے ساتھ مل کر پاکستان کا پہلا خواتین پر مبنی وکالت کا ادارہ بھی شروع کیا۔ عاصمہ جہانگیر کو اپنی زندگی میں متعدد بار غداری اور توہین مذہب کے الزامات کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

معروف قانون دان پاکستان میں انسانی حقوق کی علمبردار اور سیکیورٹی اداروں کی ناقد کے طور پر پہچانی جاتی رہی ہیں۔ عاصمہ جہانگیر انسانی حقوق کمیشن کی سابق سربراہ بھی رہیں۔

اردن کےرائل اسلامک اسٹریٹجک اسٹڈیزسینٹرنے 2018 میں دنیا کی 500 با اثرترین مسلم شخصیات کی رپورٹ جاری کی جس میں انسانی حقوق کی آواز بلند کرنے پر عاصمہ جہانگیرکا نام سرفہرست تھا۔

انھوں نے اقوام متحدہ کے لیے بطور نمائندہ خصوصی ایران میں انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کے حیثیت سے بھی کام کیا۔

عاصمہ جہانگیرکو 1995 میں انسانی حقوق پر کام کرنے کی وجہ سے رامون مگسیسی ایوارڈ سے بھی نواز گیا جسے ایشیا کو نوبل پرائز تصور کیا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں مارٹن اینیلز، یونیسکو پرائز، فرنچ لیجن آف آنر، انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ پرائزاورمیلنیم امن پرائزبھی ان کا اعزاز ہے۔

اقوام متحدہ نےعاصمہ جہانگیر کو انسانی حقوق 2018 کے ایوارڈ سے نوازا۔ معروف سماجی کارکن 2005 میں نوبل امن انعام کے لئے بھی نامزد ہوئی تھیں۔