’نیوزی لینڈ سے اچھی خبر ملنے والی ہے، وہ دورہ دوبارہ شیڈول کرنے کی کوشش کررہے ہیں‘

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ اگلے ہفتے تک نیوزی لینڈ کی طرف سے اچھی خبر ملنے والی ہے، نیوزی لینڈ دورہ منسوخی کو دوبارہ شیڈول کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ کو بریفنگ میں چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ پاکستان کرکٹ کو کوئی ردی کی ٹوکری میں نہیں ڈال سکتا، جب تک آواز نہیں اٹھائیں گے تب تک کوئی کام نہیں بنے گا۔

کمیٹی ارکان نے تجویز  دی کسی طرح چین کو کرکٹ میں لے آئیں جس پر رمیز راجہ نے جواب دیا  کہ چین کو جلد کرکٹ میں لارہے ہیں۔

رمیز راجہ نے کمیٹی کو بتایا کہ نیوزی لینڈ نے پاکستان کا دورہ منسوخ کیا، اب پھرسے رابطہ کرلیا،آئندہ ہفتے نیوزی لینڈ کے ساتھ ہوم سیریز دوبارہ شیڈول کرنے کا اعلان کردیا جائے گا ، نیوزی لینڈ کو نومبر 2022 میں دورے کی تجویز دے سکتے ہیں۔

رمیز راجہ نے بتایا کہ بھارت کا کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کیلئے 90 فیصد آمدنی فراہم کرتا ہے جبکہ آئی سی سی اس آمدنی میں سے 50 فیصد  فنڈ پی سی بی کو  دیتا ہے، خطرہ ہے کہ اگر بھارت آئی سی سی کو آمدن دینا چھوڑ دے تو پاکستان کرکٹ کہیں بیٹھ نہ جائے۔

رمیز راجہ کا کہنا تھا کہ دنیائے کرکٹ میں پاکستان کی اہمیت بڑھانےکیلئے پی سی بی کی معیشت کو بہتر بنانا ہوگا، اس سلسلے میں مختلف سرمایہ کاروں کےساتھ بات چیت جاری ہے۔

چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ ایک ملین ڈالر کی مالیت کی ڈراپ ان پچز دینے کے لیے دو کمپنیاں سرمایہ کاری کے لیے تیار ہیں، ایک سرمایہ کار نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں بھارت کو ہرانے پر بلینک چیک کی بھی آفر کی ہے۔ مختلف بورڈ سے ٹرائی سیریز شیڈول کرنے کا پلان کررہے ہیں۔

رمیز راجہ نے سینیٹ کمیٹی میں کہا کہ ملک کو بیچنے والے فکسرز کو ٹیم میں واپس نہیں لانا چاہیے۔ 

خیال رہے کہ گذشتہ ماہ نیوزی لینڈ اور پاکستان کے درمیان سیریز کھیلی جانی تھی تاہم نیوزی لینڈ نے میچ سے محض آدھا گھنٹہ قبل سکیورٹی وجوہات کی بنا پر دورہ ملتوی کردیا تھا۔ 

اس کے بعد انگلینڈ کرکٹ ٹیم نے رواں ماہ پاکستان کا دورہ کرنا تھا لیکن نیوزی لینڈ کی جانب سے دورہ ملتوی کیے جانے کے بعد انگلینڈ نے بھی یکطرفہ طور پر دورہ ملتوی کردیا تھا جس کے بعد سابق انگلش کرکٹرز سمیت حکومت کی جانب سے بھی اس فیصلے پر سخت تنقید کی گئی تھی۔

انگلینڈ کے اس فیصلے پر دنیا بھر کی کرکٹ سے وابستہ شخصیات نے بھی تنقید کی اور خاص طور پر انگلینڈ کو اس بات پر تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے کہ جب انگلینڈ میں کورونا کی بدترین صورتحال تھی تو پاکستان نے انگلینڈ کا دورہ کیا تھا لیکن بدلے میں انگلینڈ نے ضرورت کے وقت پاکستان کی مدد نہیں کی۔