فیس بک کے بعد ٹک ٹاک کی بھی اشتہارات پر پابندی

فیس بک کے بعد چین کی مقبول ترین سوشل میڈیا ویڈیو ایپلیکیشن ٹک ٹاک نے بھی اشتہارات پر پابندی عائد کر دی۔

ٹک ٹاک دنیا بھر میں تیزی سے مقبول ہونے والی ویڈیو ایپ ہے جس کے اس وقت 5 کروڑ سے زائد ایکٹیو صارف ہیں۔ صرف مارچ کے مہینے میں ٹک ٹاک 10 کروڑ سے زائد بار ڈاؤن لوڈ ہوئی، ایک محتاط اندازے کے مطابق ایپ اسٹورز پر اسے ایک ارب سے زیادہ بار ڈاؤن لوڈ کیا جا چکا ہے۔

کمپنی کے مطابق ٹک ٹاک ایپ تفریحی مواد کے لیے بنائی گئی ہے اس لیے اس پر ایسے کوئی اشتہارات شیئر کرنے کی اجازت نہیں ہو گی جو اشتعال انگیزی یا سیاسی سرگرمیوں کا حصہ ہوں۔

جن اشتہارات پر پابندی عائد کی گئی ہے ان میں انتخابات، مسائل، کسی سیاسی شخصیت یا مہم کی تشہیر کرنے والے اشتہارات شامل ہیں۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ اب سے اشتہارات کی شفافیت کا خاص خیال رکھا جائے گا، اشتہار کو پوسٹ کرنے سے قبل صارف کی درج کردہ معلومات کو چیک کیا جائے گا اور اشتہار کے مواد کا بھی غور سے جائزہ لیا جائے گا۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ٹک ٹاک ایپ کی پرائیویسی سے بڑھ کر ان نوجوانوں کے لیے ہے جن کا اس قسم کے اشتہارات سے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس فیس بک نے بھی اپنی ویب سائٹ پر سیاسی اشتہارات پوسٹ کرنے پر سخت شرائط نافذ کرتے ہوئے تصدیق لازمی قرار دی تھی۔