ہواوے سام سنگ کی بادشاہت ختم کرنے کے قریب۔

اسلام آباد: اسمارٹ فونز بنانے والی چین کا بڑا برینڈ ہواوے امریکی پابندیوں کے باوجود دنیا کی نمبر ون کمپنی بننے کے قریب پہنچ چکی ہے۔

اسٹریٹیجیکل اینالیٹیکس کی رپورٹس کے مطابق 2015 میں ہواوے نے 10 کروڑ چالیس لاکھ اسمارٹ فونز کی درآمدات کیں جس سے وہ مارکیٹ کا 5.5 فیصد حاصل کرنے میں کامیاب رہا اور دنیا بھر میں تیسری پوزیشن حاصل کرلی۔

2016  چینی کمپنی نے اعادہ کیا کہ 2021 تک وہ دنیا میں اسمارٹ فون ٹیکنالوجی میں سرفہرست کمپنی ہونے کا مقام حاصل کر لے گی۔

کوریائی میگزین کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق چینی کمپنی 2019 کے اختتام تک مجموعی طور پر 23 کروڑ1 لاکھ ہینڈ سیںٹس کی شپنگ مکمل کر لی گی جو مارکیٹ شیئر کا 17.7 حصہ بنتا ہے۔اس کے مقابلے میں کورین کمپنی سام سانگ نے 32 کروڑ 3 لاکھ پونٹس کے جہاز روانہ کئے جو سال کے اختتام تک 21.3 فیصد مارکیٹ کا حصص بنتا ہے۔

ہواوے کی فروخت ہر گزرتے سال میں سام سانگ کے قریب آتی جا رہی ہے۔ اس نمو کی ایک بنیادی وجہ کمپنی کی مقامی مارکیٹ میں فروخت کی بڑی تعداد ہے۔جب مقامی مارکیٹ میں فروخت کی بات آتی ہے تو ہواوے کا نیا و جدید اسمارٹ فون میٹ 30 ریکارڈ توڑ رہا ہے۔

دوسری طرف ایپل 19 کروڑ 3 لاکھ یونٹ کی متوقع کھیپ اور مارکیٹ شیئر کے 13.6 فیصد کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔