چیف جسٹس کا چیئرمین ایف بی آر کو توہین عدالت کا نوٹس جاری

چیف جسٹس پاکستان نے چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کر دیا ہے۔

سپریم کورٹ میں جعلی اکاؤنٹس کیس کی سماعت چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ چیف جسٹس نے ایف بی آر کی پیش کر دہ رپورٹ کو مسترد کر دیا۔

بیرون ملک پاکستانیوں کے اثاثوں کی تفصیلات جمع نہ کروانے پر چیف جسٹس نے چئیرمین ایف بی آر پر برہمی کا اظہار کیا اور اظہار وجوہ کےلئے چئیرمین ایف بی آر کو تین دن کا نوٹس جاری کردیا۔

عدالت نے ممبر اِنکم ٹیکس کو بھی توہین عدالت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے حکم دیا کہ تین دن کے اندر اندر بتائیں کہ عدالت کے حکم پر عمل کیوں نہیں کیا گیا۔

چیف جسٹس نے چیئرمین ایف بی آر اور ممبر انکم ٹیکس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیوں نہ آپ دونوں کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کر دی جائے۔ آپ عدالت کو گمراہ کرنا بند کریں۔

چیف جسٹس نے وزیر اعظم عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کی جائیداد سے متعلق تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے استفسار کیا کہ عدالتی جے آئی ٹی نے علیمہ خان سے متعلق کیا کارروائی کی ہے اس کی تفصیلات بتائی جائے۔

ڈی جی وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے عدالت سے تین چار دن کی مہلت طلب کرتے ہوئے کہا کہ ہم تفصیلی رپورٹ عدالت میں پیش کر دیں گے۔

جعلی اکاؤنٹس کیس کی مزید سماعت 13 دسمبر تک ملتوی کر دی گئی۔