وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے پاک افغان سرحد پر کشیدگی کے تناظر میں ردعمل دیتے ہوئے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ کسی کو پاکستان کا امن چھیننے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ معاملات کو بات چیت اور سفارتی ذرائع کے ذریعے حل کیا جائے، تاہم قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
اپنے بیان میں طلال چوہدری نے کہا کہ اس وقت پاکستان افغان طالبان رجیم کی جانب سے کی جانے والی کارروائیوں کا جواب دے رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت جیسے ملک، جس کے پاس فوجی طاقت، طیارے اور جدید ہتھیار موجود تھے، اسے بھی نتائج کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے بازاروں اور مساجد میں بم دھماکے کسی صورت برداشت نہیں کیے جا سکتے۔
طلال چوہدری نے مزید کہا کہ پاکستان اپنے عوام کے امن و تحفظ کے لیے ہر ممکن حد تک جائے گا اور افغانستان کو ہر صورت ایک پرامن ہمسایہ ملک کا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق چین سے لے کر امریکہ تک عالمی برادری کو بھی افغانستان کے حوالے سے تحفظات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کر رہا ہے اور دہشتگردی کو ہر صورت ختم کیا جائے گا، چاہے اس کے لیے جو بھی اقدامات کرنا پڑیں۔