برطانیہ، روس، چین، ایران اور ملائیشیا نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ جھڑپوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ کشیدگی کم کرنے اور صورتحال کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان اور افغانستان تحمل کا مظاہرہ کریں اور باہمی اختلافات کو بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔ چین نے فوری طور پر لڑائی بند کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے عملی اقدامات اٹھانے پر زور دیا ہے۔
برطانوی وزیر خارجہ نے بھی دونوں فریقوں سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر کشیدگی کم کرنے کے اقدامات کریں اور خطے میں امن و استحکام کو ترجیح دیں۔
روسی وزارت خارجہ نے پاکستان اور افغانستان کو خطرناک تصادم سے گریز کرنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک اپنے اختلافات کو سیاسی اور سفارتی ذرائع سے حل کریں تاکہ صورتحال مزید بگڑنے سے روکی جا سکے۔
ایران نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان ثالثی کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بات چیت کے عمل میں سہولت فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن تعاون دینے کو تیار ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ خطے میں امن کے قیام کے لیے سفارتی کوششیں ناگزیر ہیں۔
ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے بھی دونوں ممالک سے فوجی کارروائیاں فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سکیورٹی خدشات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، تاہم افغانستان کی خود مختاری اور سالمیت کا احترام بھی ضروری ہے۔