امریکی صدر نے ایران کی تہذیب کو ایک رات میں ختم کرنے کی دھمکی کے بعد اپنی مقرر کردہ ڈیڈ لائن ختم ہونے سے تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ قبل ایران پر بمباری کو دو ہفتوں کے لیے معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جسے اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں امریکی صدر نے کہا کہ وہ ایران پر حملوں کو دو ہفتوں کے لیے معطل کرنے پر متفق ہو گئے ہیں، اور یہ ایک دوطرفہ جنگ بندی ہوگی، بشرطیکہ ایران آبنائے ہرمز کو مکمل، فوری اور محفوظ طریقے سے کھولنے پر آمادہ ہو۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ان کی پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ گفتگو ہوئی ہے، اور پاکستانی قیادت کی درخواست پر وہ ایران پر حملے معطل کرنے پر رضامند ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک قابل عمل بنیاد ہے جس پر آئندہ مذاکرات آگے بڑھ سکتے ہیں۔
امریکی صدر کے مطابق امریکا پہلے ہی اپنے تمام عسکری اہداف حاصل کر چکا ہے بلکہ ان سے بھی آگے بڑھ چکا ہے، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں امن سے متعلق حتمی معاہدے کے قریب پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایران کی جانب سے 10 نکاتی تجویز موصول ہوئی ہے، جسے مذاکرات کے لیے ایک مؤثر بنیاد سمجھا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ڈیڈ لائن میں دو ہفتوں کی توسیع کی درخواست کی تھی، اور جذبہ خیرسگالی کے تحت ایران سے آبنائے ہرمز کو دو ہفتوں کے لیے کھولنے کی اپیل بھی کی تھی۔