امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ دو ہفتوں کی جنگ بندی کے اعلان کے بعد عالمی مالیاتی منڈیوں میں زبردست مثبت ردعمل دیکھنے میں آیا ہے، جہاں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی اور اسٹاک مارکیٹس میں تیزی ریکارڈ کی گئی ہے۔
جنگ بندی کے اعلان کے مطابق امریکا نے ایران کے خلاف حملے دو ہفتوں کے لیے معطل کرنے پر اتفاق کیا ہے، جبکہ دونوں فریق طویل مدتی امن معاہدے کی جانب پیش رفت کر رہے ہیں، جس سے عالمی سطح پر اعتماد بحال ہونے کے آثار ظاہر ہو رہے ہیں۔
عرب میڈیا کے مطابق ایران نے بھی عندیہ دیا ہے کہ اگر اس پر حملے روکے گئے تو وہ اپنی کارروائیاں بند کر دے گا، اور آبنائے ہرمز سے جہازوں کی محفوظ آمدورفت کو یقینی بنایا جائے گا، جو عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شامل ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی مجموعی ترسیل کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے، جس کے باعث اس میں کسی بھی رکاوٹ کے عالمی معیشت پر فوری اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
امریکا اور اسرائیل کی جانب سے فروری کے آخر میں ایران پر حملوں کے بعد ایران نے اس راستے کو مؤثر طور پر بند کر دیا تھا، جس کے نتیجے میں عالمی منڈیوں پر شدید دباؤ دیکھا گیا تھا اور توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تھا۔
جنگ بندی کی خبر سامنے آنے کے بعد امریکی خام تیل کی قیمت تقریباً 16.5 فیصد کم ہو کر 94 ڈالر فی بیرل تک آ گئی، جبکہ ایس اینڈ پی 500 فیوچرز میں 2 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، اس کے ساتھ ساتھ امریکی ڈالر کی قدر میں بھی کمی دیکھی گئی اور سرمایہ کاروں نے محفوظ سرمایہ کاری کے بجائے دوبارہ حصص بازار کا رخ کرنا شروع کر دیا۔
عرب میڈیا کے مطابق ماہر مالیات جیمی کاکس نے کہا ہے کہ منڈیاں پہلے ہی اس بات کی توقع کر رہی تھیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایران تنازع سے نکلنے کے لیے کوئی راستہ اختیار کریں گے، اور حالیہ اعلان اسی سمت ایک اہم پیش رفت ثابت ہوا ہے۔
ایشیا کی اسٹاک مارکیٹس میں بھی مثبت رجحان دیکھا گیا ہے، جبکہ امریکی 10 سالہ ٹریژری بانڈز میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی کی نشاندہی کرتا ہے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے پیش کی گئی 10 نکاتی تجویز مذاکرات کے لیے ایک قابل عمل بنیاد فراہم کرتی ہے، جس کے نتیجے میں مستقل امن معاہدے کے امکانات مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔