سعودی عرب میں حالیہ حملوں کے باعث توانائی کے اہم منصوبے متاثر ہوئے ہیں، جس کے نتیجے میں تیل اور گیس کی پیداوار اور ترسیل میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
سعودی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق ایک تیل پمپنگ اسٹیشن پر حملے کے نتیجے میں یومیہ 7 لاکھ بیرل تیل کی ترسیل متاثر ہوئی، جبکہ منیفہ اور خریص آئل فیلڈز پر حملوں سے پیداوار میں روزانہ 3 لاکھ بیرل کمی آئی ہے۔ مجموعی طور پر سعودی عرب کی تیل پیداواری صلاحیت میں یومیہ تقریباً 6 لاکھ بیرل کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جبیل میں اسٹورپ، راس تنورہ، ینبع میں سامرف اور ریاض ریفائنری جیسے بڑے صنعتی منصوبے بھی متاثر ہوئے ہیں، جس کے باعث عالمی منڈی کو تیل کی فراہمی پر بھی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
سعودی میڈیا کے مطابق جُعیمہ کے پروسیسنگ پلانٹس میں آگ لگنے سے ایل پی جی کی برآمدات بھی متاثر ہوئیں، جبکہ ان حملوں میں ایک سیکیورٹی اہلکار جاں بحق اور 7 سعودی شہری زخمی ہوئے ہیں۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس کے عالمی معیشت پر بھی اثرات پڑنے کا خدشہ ہے۔