ایرانی میڈیا کے مطابق اسپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں اسلام آباد پہنچنے والا ایرانی وفد آج وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کرے گا، جبکہ امریکی حکام سے مذاکرات کا آغاز پیشگی شرائط کی منظوری سے مشروط قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اگر امریکا ایرانی وفد کی پیشگی شرائط کو قبول کر لیتا ہے تو دوپہر کے وقت امریکی حکام کے ساتھ باضابطہ مذاکرات شروع ہو سکتے ہیں، جو خطے کی صورتحال کے لیے اہم پیش رفت سمجھے جا رہے ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق وفد میں وزیر خارجہ عباس عراقچی سیاسی کمیٹی کے سربراہ کے طور پر شامل ہیں، جبکہ اقتصادی کمیٹی کی قیادت مرکزی بینک کے صدر عبدالناصر ہمتی کر رہے ہیں اور ملٹری کمیٹی کے سربراہ ایڈمرل احمدیان ہیں، جبکہ قانونی کمیٹی کی سربراہی اسماعیل بقائی کے سپرد ہے۔
ذرائع کے مطابق ایرانی وفد تقریباً 70 افراد پر مشتمل ہے، جس میں مرکزی مذاکرات کاروں کے علاوہ 26 رکنی ٹیکنیکل اور خصوصی کمیٹیوں کے ارکان بھی شامل ہیں۔
یہ کمیٹیاں معاشی، سیکیورٹی اور سیاسی امور سے متعلق معاملات پر فوری مشاورت فراہم کریں گی تاکہ مذاکراتی عمل کو مؤثر بنایا جا سکے۔
وفد کے ساتھ 23 رکنی میڈیا ٹیم بھی اسلام آباد پہنچی ہے، جبکہ پروٹوکول، رابطہ کار، مترجمین اور سیکیورٹی اہلکار بھی وفد کا حصہ ہیں۔