وزیر دفاع خواجہ آصف نے افغان طالبان رجیم کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی بہادر افواج اس وقت مبینہ بھارتی پراکسی عناصر اور افغان جارحیت کا منہ توڑ جواب دے رہی ہیں، اور دشمن کی شکست یقینی ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ نیٹو افواج کے انخلاء کے بعد توقع کی جا رہی تھی کہ افغانستان میں امن قائم ہوگا اور طالبان افغان عوام کے مفادات اور خطے کے استحکام پر توجہ دیں گے، تاہم ان کے بقول صورتحال اس کے برعکس رہی اور افغانستان کو بھارت کے اثر و رسوخ میں دے دیا گیا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ طالبان نے مختلف شدت پسند عناصر کو افغانستان میں جمع ہونے کا موقع دیا اور دہشت گردی کو سرحد پار پھیلانے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان عوام کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم کیا گیا اور خواتین کے وہ حقوق بھی محدود کیے گئے جو اسلام انہیں فراہم کرتا ہے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان نے براہ راست اور دوست ممالک کے ذریعے حالات کو معمول پر رکھنے کیلئے سفارتی سطح پر بھرپور کوششیں کیں، مگر ان کے مطابق طالبان بھارت کی پراکسی بن گئے۔ انہوں نے کہا کہ جب پاکستان کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تو افواجِ پاکستان نے فیصلہ کن اور مؤثر جواب دیا۔
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ پاکستان کی فوج کسی دور دراز علاقے سے نہیں آئی بلکہ ہمسایہ ملک کی حیثیت سے صورتحال سے مکمل آگاہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے اور اب اگر جارحیت کی گئی تو بھرپور اور کھلا جواب دیا جائے گا۔