کراچی میں محکمہ انسداد دہشت گردی کے ساتھ مقابلے میں مارے جانے والے ایک دہشتگرد کی شناخت کالعدم بی ایل اے کے اہم کمانڈر کے طور پر کر لی گئی ہے، جس سے سکیورٹی اداروں کو اہم پیش رفت حاصل ہوئی ہے۔
سی ٹی ڈی کے ترجمان کے مطابق 17 فروری کو شاہ لطیف ٹاؤن کے علاقے میں سی ٹی ڈی اور دہشتگردوں کے درمیان شدید مقابلہ ہوا تھا، جس کے نتیجے میں چار دہشتگرد ہلاک جبکہ دو پولیس اہلکار زخمی ہو گئے تھے۔
سی ٹی ڈی حکام کا کہنا ہے کہ اس مقابلے میں ہلاک ہونے والے دہشتگردوں میں جلیل، نیاز اور حمدان شامل تھے، جبکہ ایک دہشتگرد کی شناخت کا عمل جاری تھا، جسے اب سہیل بلوچ کے نام سے شناخت کر لیا گیا ہے۔
ترجمان کے مطابق سہیل بلوچ کالعدم بی ایل اے کا اہم کمانڈر تھا اور وہ 50 سے زائد سکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کے قتل میں ملوث رہا ہے، جبکہ ڈی سی پنجگور ذاکر بلوچ کی شہادت کا ماسٹر مائنڈ بھی یہی دہشتگرد تھا۔
سی ٹی ڈی حکام نے مزید بتایا کہ جعفر ایکسپریس پر ہونے والے حملے کے لیے پانچ خودکش بمبار بھی سہیل بلوچ کی جانب سے ہی بھیجے گئے تھے، جو اس کی سرگرمیوں کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔
حکام کے مطابق ہلاک دہشتگرد کے دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے سندھ بھر میں چھاپے مارے جا رہے ہیں تاکہ نیٹ ورک کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔