ایرانی میڈیا نے اہم ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ اگر اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری رہیں تو ایران عبوری جنگ بندی معاہدے سے دستبردار ہو سکتا ہے، جس سے صورتحال دوبارہ کشیدہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ایک ایرانی اہلکار کے مطابق اگر امریکا نے اسرائیل کو قابو میں نہ رکھا تو ایران اس کی غیر معمولی حمایت کے جواب میں براہِ راست مداخلت کر سکتا ہے اور طاقت کے استعمال کے ذریعے ردعمل دے گا۔
اہلکار نے مزید کہا کہ بدھ کے روز ہونے والی جارحیت کا بدلہ لینے کے لیے اہداف پہلے ہی مقرر کیے جا چکے ہیں، جس سے ممکنہ ردعمل کی شدت کا عندیہ ملتا ہے۔
اس سے قبل ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا تھا کہ مذاکرات سے پہلے ہی پیش کی گئی 10 نکاتی تجاویز کے تین اہم نکات کی خلاف ورزی ہو چکی ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایران کی فضائی حدود میں ڈرون دراندازی کی گئی، ایران کے یورینیئم افزودگی کے حق کو تسلیم نہیں کیا گیا، جبکہ لبنان میں بھی جنگ بندی کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔