پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان اور ان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر کی اڈیالہ جیل میں ہونے والی ملاقات کی اندرونی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں، جس میں اہم سیاسی اور قانونی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات پر بیرسٹر سلمان صفدر نے اڈیالہ جیل میں عمران خان سے تقریباً ایک گھنٹے تک ملاقات کی، تاہم ملاقات کے بعد وہ میڈیا سے گفتگو کیے بغیر روانہ ہو گئے۔
ذرائع کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے بیرسٹر سلمان صفدر کے ذریعے پارٹی کو جلسہ منسوخ کرنے کا پیغام دیا، اور وہ عالمی سطح پر پاکستان کی جاری سفارتی کوششوں سے آگاہ تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے امریکا اور ایران کے درمیان متوقع مذاکرات کے پیش نظر جلسہ منسوخ کرنے کی ہدایت دی، جس کے بعد سیاسی کمیٹی نے اس فیصلے پر عملدرآمد کیا۔
اطلاعات کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی ہدایات کی روشنی میں سیاسی کمیٹی پہلے ہی جلسہ منسوخ کرنے کا فیصلہ کر چکی تھی، جبکہ حکومتی وفد بعد میں اس حوالے سے درخواست لے کر آیا۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ عمران خان نے سلمان صفدر کو اپنی صحت کے بارے میں آگاہ کیا اور کہا کہ ان کی متاثرہ آنکھ میں پہلے سے کافی بہتری آ چکی ہے، جبکہ انہوں نے جیل میں فراہم کی جانے والی سہولیات سے متعلق کوئی شکایت نہیں کی۔
ذرائع کے مطابق سلمان صفدر نے 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں سنائی گئی سزا کے خلاف زیر سماعت اپیل سے متعلق عمران خان کو بریف کیا، اور دونوں کے درمیان زیر التوا مقدمات پر قانونی مشاورت بھی مکمل کی گئی۔