ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کو ایک ہفتہ گزرنے کے بعد مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک کی فضائی حدود شدید متاثر ہو چکی ہیں جس کے باعث خطے میں فلائٹ آپریشنز معطل یا محدود ہو گئے ہیں۔ اس صورتحال کے باوجود متحدہ عرب امارات کی جانب سے سیکڑوں خصوصی پروازیں آپریٹ کی جا رہی ہیں تاکہ پھنسے ہوئے مسافروں کو ان کی منزلوں تک پہنچایا جا سکے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ان خصوصی پروازوں کے پیچھے امارات اور ایران کے درمیان بیک چینل سفارتکاری اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امارات سے چلنے والی یہ پروازیں معمول کی شیڈول فلائٹس نہیں بلکہ خصوصی انتظامات کے تحت چلائی جا رہی ہیں۔
غیر ملکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق امارات کی فضائی حدود اور فلائٹ آپریشن عمومی طور پر محدود ہیں، تاہم خصوصی پروازوں کے لیے مخصوص راستے قائم کیے گئے ہیں۔ یہ فضائی راہداری قطر اور یمن کے راستے قائم کی گئی ہے تاکہ مسافروں کو محفوظ انداز میں ان کی منزلوں تک پہنچایا جا سکے۔
رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات نے ایران کو یقین دہانی کرائی ہے کہ اس کی سرزمین یا فضائی حدود کو ایران کے خلاف کسی تیسرے فریق کی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔ اس یقین دہانی کے بعد ایران نے دبئی اور ابوظبی سے پروازوں کے لیے مخصوص محفوظ فضائی راستے کی اجازت دی ہے۔
ذرائع کے مطابق ایران نے اس بات پر بھی اتفاق کیا ہے کہ ان مخصوص فضائی راستوں پر سفر کرنے والے تجارتی طیاروں کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔ ابتدائی طور پر یہ انتظام تقریباً 48 گھنٹوں کے لیے کیا گیا ہے تاہم صورتحال برقرار رہنے کی صورت میں اس میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق دبئی اور ابوظبی میں موجود ہزاروں مسافر ان خصوصی پروازوں کے ذریعے اپنے ممالک واپس جانے کے منتظر ہیں جبکہ دوسری جانب کویت، بحرین اور قطر سے گزشتہ ایک ہفتے کے دوران کوئی پرواز آپریٹ نہیں ہو سکی۔ ان ممالک کے ہزاروں مسافر زمینی راستے سے سعودی عرب کے ذریعے اپنی منزلوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔