پاکستان نے کرتارپورراہداری پردوطرفہ حتمی معاہدے کا مسودہ نئی دہلی کو بھجوادیا ہے جس میں بھارتی مطالبات بھی تسلیم کئے گئے ہیں جبکہ ہر یاتری کیلئے 20ڈالر فیس رکھی گئی ہے۔
مجوزہ معاہدے کے مطابق بھارت سےہندو، سکھ، پارسی اور عیسائی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد سمیت کوئی بھی کرتاپور کوریڈور کے ذریعے نانک نام لیوک کے نام پرگورودوارہ کرتارپور آسکتے ہیں۔ معاہدے کے تحت 5 ہزار یاتری روزانہ پاکستان آسکتے ہیں تاہم اگر گنجائش ہو تو تعداد پر کوئی پابندی نہیں۔
بھارت 10 روز پہلے یاتریوں کی فہرست پاکستان کے حوالے کریگا جس کے بعد پاکستانی حکام اس فہرست کی تصدیق کریں گے۔
یاتریوں کی آمد سے4 روز پہلے فہرست کو حتمی شکل دی جائے گی اور دوطرفہ اتفاق رائے کی صورت میں معاہدے کی وفاقی کابینہ سے منظوری بھی لی جائے گی جس کے بعد واہگہ بارڈر یا کرتارپور زیرو پوائنٹ کے مقام پر معاہدے پردستخط کی باضابطہ تقریب ہوگی۔