نئی دہلی میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی لوک سبھا میں تقریر سے محض ایک دن قبل ایک اور جعلی مقابلہ رچایا گیا، جس کا مقصد سیاسی ماحول کو اپنی تقریر کے حق میں ہموار کرنا تھا، لیکن یہ کوشش بری طرح بے نقاب ہو کر ناکام ہوگئی۔
چاہے بات ہو پہلگام حملے کی یا مہادیو فالز کے نام سے کیے گئے نئے فلیگ آپریشن کی، ان تمام کارروائیوں کا مقصد مودی سرکار کے سیاسی ایجنڈے کو سہارا دینا ہے، لیکن ہر بار کی طرح یہ کوششیں ناکامی سے دوچار ہو رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق مودی حکومت نے “آپریشن سندور” کی ناکامی پر پردہ ڈالنے کے لیے ایک نیا فالز فلیگ آپریشن رچا کر بھارتی عوام اور میڈیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کی، جو کہ اب ہندوتوا حکومت کی ریاستی پالیسی کا حصہ بن چکی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جس دن پارلیمان میں آپریشن سندور پر بحث ہونی تھی، اس سے ایک دن پہلے ہی پہلگام حملے میں مبینہ دہشتگردوں کی ہلاکت کو اتفاق قرار نہیں دیا جا سکتا۔ بھارت میں فالز فلیگ حملے ہمیشہ کسی سیاسی بحران یا انتخاب کے قریب پیش آتے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ سب کچھ منصوبہ بندی کے تحت ہوتا ہے۔
گودی میڈیا نے حسب روایت بغیر کسی ثبوت کے ان دہشتگردوں کو پاکستان سے جوڑ کر اپنی پاکستان دشمنی کی روش برقرار رکھی، اور بغیر تحقیق کے بیانیہ پھیلایا۔
بھارتی میڈیا ادارے وی آن نیوز کے مطابق، مہادیو آپریشن میں بھارتی فوج نے پہلگام حملے سے جوڑ کر تین مبینہ دہشتگردوں کو ہلاک کیا، جن میں سے ایک سری نگر کے قریب کارروائی کے دوران مارا گیا مقامی شخص تھا جسے گروہ کا سربراہ بتایا گیا۔ فوج نے لاشوں کے ساتھ بھاری مقدار میں اسلحہ و بارود بھی برآمد کیا۔
وی آن نیوز کے مطابق برآمد شدہ اسلحے میں سوویت ساختہ AK-47 رائفل، امریکی کاربائن، 17 عدد رائفل گرینیڈز اور دیگر آلات شامل تھے، مگر مودی سرکار نے ہمیشہ کی طرح شناخت اور ٹھوس شواہد سے پہلے ہی اس سب کو پاکستان سے جوڑ دیا۔
لوک سبھا میں فوجی ناکامی کو چھپانے کے لیے بھارت کی روایتی حکمت عملی یہی ہے کہ فالز فلیگ آپریشن کیے جائیں اور فوری طور پر پاکستان پر الزام تراشی شروع کر دی جائے۔
ماہرین نے ان ہلاک دہشتگردوں کی جاری کردہ تصاویر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس موجود اسلحہ غیر فعال دکھائی دیتا ہے، یہاں تک کہ رائفل کی بیرل میں کپڑا بھرا ہوا تھا، جو کسی حقیقی مقابلے میں ممکن نہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کو اب بہتر اسکرپٹ رائٹرز کی ضرورت ہے، کیونکہ ایسی بچگانہ غلطیاں ان کی جعلی کارروائیوں کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیتی ہیں۔ مودی کی تقریر سے ایک دن قبل پرانی جعلی مقابلوں کی تصاویر جاری کرنا بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جو سیاسی ساکھ بچانے کی ناکام کوشش ہے۔
اگر ان دہشتگردوں کا تعلق واقعی پاکستان سے تھا، تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان کے خلاف ثبوت عالمی اداروں کے سامنے کیوں پیش نہیں کیے جاتے؟
ہندوتوا حکومت کو ہمیشہ مہنگائی، بے روزگاری اور بدانتظامی جیسے اصل مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے “سرحد پار دہشتگردی” کے پرانے بیانیے کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ ہر بار پرانی AK-47 دکھا کر دہشتگردی کا نیا ڈرامہ رچانا بھارتی خفیہ اداروں کی ناقص حکمت عملی کا حصہ ہے۔