پاکستان نے 2028 میں ہونے والے لاس اینجلس اولمپک کھیلوں میں کرکٹ کی تاریخی واپسی کے موقع پر شمولیت یقینی بنانے کے لیے اپنی لابنگ کی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق، موجودہ کوالیفکیشن نظام کے تحت پاکستان اور نیوزی لینڈ کے ایونٹ سے باہر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ منتظمین کی جانب سے علاقائی کوالیفکیشن فارمیٹ کو اپنانے کا امکان ہے، جو اولمپکس کے دیگر کھیلوں میں بھی رائج ہے۔
اب تک کی اطلاعات کے مطابق بھارت (ایشیا) اور آسٹریلیا (اوشینیا) اپنی علاقائی رینکنگ کی بنیاد پر براہِ راست کوالیفائی کریں گے، جبکہ برطانیہ (یورپ)، جنوبی افریقہ (افریقہ) اور میزبان ملک امریکا کی شمولیت بھی یقینی ہے۔ چھٹی ٹیم کے حوالے سے تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا اور امکانات ہیں کہ یہ جگہ کسی کیریبیئن ملک یا کسی اور ایشیائی ٹیم کو دی جا سکتی ہے۔
اس صورتحال میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے واضح کیا ہے کہ وہ ہار نہیں مانے گا۔ پی سی بی ذرائع کے مطابق “اولمپکس ایک باوقار ایونٹ ہے، اور جب کرکٹ کو اس میں شامل کیا جا رہا ہے تو ہم اس موقع سے محروم نہیں رہ سکتے۔”
پی سی بی جلد ہی بین الاقوامی کرکٹ کونسل اور ایل اے 2028 گیمز کمیٹی کو ایک باضابطہ خط ارسال کرے گا، جس میں مطالبہ کیا جائے گا کہ کوالیفکیشن کی حتمی تاریخ کا اعلان کیا جائے، جو مثالی طور پر کھیلوں کے آغاز سے کم از کم ایک سال قبل ہونی چاہیے۔
سابق کپتان راشد لطیف نے بھی پی سی بی پر زور دیا ہے کہ وہ معاملے پر فوری اور مؤثر اقدام کرے۔ ان کے مطابق “یہ ایک تاریخی موقع ہے، اور ایک اولمپک تمغہ داؤ پر لگا ہے۔” راشد لطیف نے تجویز دی کہ 2024 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی رینکنگ کو کوالیفکیشن کا معیار بنایا جانا چاہیے۔
واضح رہے کہ 1990 کے بعد دوسری مرتبہ کرکٹ کو اولمپکس میں شامل کیا گیا ہے، اور لاس اینجلس 2028 میں مردوں اور خواتین کے میچز 20 سے 29 جولائی کے درمیان شیڈول کیے گئے ہیں۔