پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ 72 گھنٹوں کے دوران بھارت کی جانب سے پانی چھوڑا جا سکتا ہے، جس کے نتیجے میں دریائے ستلج اور اس سے ملحقہ ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ اور نچلے درجے کے سیلاب کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
پی ڈی ایم اے کے ترجمان کے مطابق اگر بھارت کی طرف سے بالائی آبی ذخائر سے پانی کا اخراج کیا گیا تو دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ کے مقام پر سیلابی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ حالیہ ایام میں بھارتی ڈیموں میں پانی کی سطح میں نمایاں اور غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس سے خطرہ بڑھ گیا ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے نے بتایا کہ اس صورتحال کے پیش نظر لاہور، ساہیوال، بہاولپور، ملتان، ڈیرہ غازی خان، قصور، اوکاڑہ، پاکپتن، بہاولنگر، وہاڑی اور لودھراں سمیت متعدد اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، تاکہ کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی انتظامات کیے جا سکیں۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق دریائے ستلج پر قائم بھاکڑا ڈیم اس وقت 61 فیصد تک بھر چکا ہے، پونگ ڈیم میں پانی کی سطح 76 فیصد جبکہ تھین ڈیم میں یہ تناسب 64 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جو پانی چھوڑنے کے امکان کو مزید بڑھا رہا ہے۔