بلوچستان کے مختلف اضلاع میں موبائل فون ڈیٹا انٹرنیٹ سروس ایک ہفتے سے بند ہے، جس کے باعث صارفین کو روزمرہ زندگی کے مختلف شعبوں میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ صوبے کے شہری تعلیمی، تجارتی اور سماجی سرگرمیوں میں انٹرنیٹ پر انحصار کرتے ہیں، لیکن طویل بندش نے یہ تمام معاملات متاثر کر دیے ہیں۔
ترجمان بلوچستان حکومت نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ڈیٹا انٹرنیٹ سروس دہشت گرد تنظیموں کے درمیان رابطے قائم کرنے کے لیے سہولت فراہم کرتی ہے، اور حالیہ دہشت گردی کے واقعات کے پیش نظر موبائل فون ڈیٹا انٹرنیٹ کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ پابندی اگست کے مہینے میں پورے بلوچستان میں برقرار رہے گی تاکہ سیکیورٹی خدشات پر قابو پایا جا سکے۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے حکام کے مطابق صوبے کے متعدد اضلاع، جن میں کوہلو، چمن، قلعہ عبداللّٰہ، پشین، لورالائی، زیارت، قلعہ سیف اللّٰہ، نوشکی اور ہرنائی شامل ہیں، میں موبائل انٹرنیٹ سروس غیر معینہ مدت کے لیے معطل کی گئی ہے۔ حکام کے مطابق یہ اقدام سیکیورٹی ایجنسیوں کی سفارش پر اٹھایا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ دہشت گرد حملے یا رابطے کو روکا جا سکے۔
دوسری جانب صوبے کے شہریوں کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ سروس کی طویل معطلی نے تعلیمی سرگرمیوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ طلبہ آن لائن کلاسز میں شرکت نہیں کر پا رہے، جبکہ فری لانسنگ اور آن لائن کاروبار کرنے والے افراد بھی شدید مالی اور پیشہ ورانہ مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سیکیورٹی کو یقینی بناتے ہوئے انٹرنیٹ سروس جلد بحال کی جائے۔