صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ملک میں موجود اقلیتی عبادت گاہوں کو غیر قانونی قبضوں سے آزاد کرانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات اٹھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ایوانِ صدر میں وفاقی وزیر برائے مذہبی اُمور سردار یوسف نے صدرِ مملکت سے ملاقات کی، جس میں اقلیتی برادری کے حقوق کے تحفظ، مذہبی رواداری کے فروغ اور بین المذاہب ہم آہنگی کے قیام سے متعلق تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر صدر مملکت نے وزارتِ مذہبی امور کی جانب سے اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور فلاح و بہبود کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا۔
ملاقات کے دوران وفاقی وزیر سردار یوسف نے آگاہ کیا کہ اقلیتی فلاحی فنڈ کے تحت 2 ہزار 236 طلبہ کو مجموعی طور پر 6 کروڑ روپے کے تعلیمی وظائف دیے گئے ہیں، جبکہ ایک ہزار 231 ضرورت مند افراد کو براہِ راست مالی امداد فراہم کی گئی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ملک بھر میں 32 اقلیتی عبادت گاہوں کی مرمت اور تزئین و آرائش کے لیے 4 کروڑ 50 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں، تاکہ یہ مقدس مقامات اپنی اصل حالت اور شان و شوکت میں بحال رہیں۔ اس کے علاوہ نفرت انگیز تقاریر کی روک تھام اور مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے مختلف مذاہب کے علما سے مشاورت کا عمل باقاعدگی سے جاری ہے۔